#وداع_ماه_رمضان

ہم پہ تو رب کا ہے انعام خدا شاہد ہے
منفرد ہے تیرا ہر کام خدا شاہد ہے

تیری آمد کی بدولت ہے کہ ہر عصیاں سے
جسم نے باندھا ہے احرام خدا شاہد ہے

ماہ رمضان سے جس نے بھی محبت کی ہے
خیریت اس کا ہے انجام خدا شاہد ہے

تو ہے وہ دوست ملے جس سے سکون کامل
یاد آئے گا تو ہر گام خدا شاہد ہے

چھوڑ کر ہم کو نہ جا ایسے تو اے ماہ صیام
نہیں پائیں گے ہم آرام خدا شاہد ہے

تیری برکت سے ابھی توڑ دئے ہیں ہم نے
خواہش نفس کے اصنام خدا شاہد ہے

چھوڑ کر ہم کو تو جائیگا تو ہوجائیں گے
حملہء گردش ایام خدا شاہد ہے

ہرگھڑی ساتھ ہمیں اپنے ہی رکھنا اے دوست
ہم ہیں گرویدہء اسلام خدا شاہد ہے

پوچھے گر کس سے محبت ہے تو آجائے گا
لب اطہر پہ تیرا نام خدا شاہد ہے

سیدسجاداطہرموسوی
۲۸رمضان المبارک۱۴۴۱ھ.ق

موضوعات مرتبط: متفرقات

تاريخ : جمعه دوم خرداد 1399 | 16:1 | نویسنده : سيد سجاد اطهر موسوي تبتي | 1نظر Comment

#الدعاء_لتحریر_القدس

اتنا رویا هوں کہ اشکوں کا چمن سوکھ گیا
اتنا جاگا کہ چراغوں کی ضیا جاتی رہی
اتنا مشغول رہا سجدہ رکوع اور قیاموں پہ قیام
آخرش میرے بدن میں بھی رمق کوئی نہ تھی
سجدہ عشق کے آخر میں
یہ آواز میرے کانوں تلک آئی کہ
قدس آزادی کی جانب ہے رواں ہوش میں آ

قدس
یہ علم ہے کہ تجھ سے ہی معراج محمد کی خبر ملتی ہے
تجھ سے مریم کے گہر حضرت عیسی کی شرافت کا پتہ ملتا ہے

قدس
اے شہر نبوت ، تیری گلیوں میں رسالت کی مہک باقی ہے
تیری دیواروں میں آثار عبادت کی چمک باقی ہے
تیری آسودہ ہواوں سے سدا وحی کی خوشبو آئے
بس یہ خواہش ہے تیرے شہر میں ھم آجائیں
اور بانہوں میں مسلمانوں کی تو آجائے

قدس
اے ھادی آئین خدائے یکتا، معبد حضرت داود و سلیمان بنی اسرائیل
مرکز وحدت توریت و زبور و انجیل
قدس
اے مبداء آغاز عروج شہہ لولاک ، ز اولاد نبی اسماعیل

قدس!
اے روئے زمین سے سوی افلاک تو نزدیک ترین دروازہ
قبلہ اول اسلام
تجھے میرا سلام

دیکھتا ھوں تیرے ھاتھوں میں ھے رسیوں کے نشاں
تیرے سرپر بھی نظر آتا ھے قیدی کا سماں
تیرے چہرے پہ ہے عاشور کے آثار عیاں
حالت کوفہ سے پر ہے تیری ساری گلیاں
شور باطل کا ہے ہر طرف ، مگر بند ہے زنجیروں میں اس شہر کا ہر پیرو جواں

قدس!
تیری وہی شاداب فضا جس میں محمد نے قدم رکھا تھا
تیری وہ عشق سے سرشار عبادت کی جگہ
جہاں محبوب خدا حضرت معبود کی مہمانی پہ آجاتے تھے
آج وہ پاک فضا اور شرافت کا وہ مینارہ بھی غمگین نظر آتا ھے
نہ کہیں عشق نہ ایمان نہ آواز اذاں
نہ کہیں اھل عبادت نہ کہیں دین نظر آتا ھے
شاھراھوں میں جو پتھر ھیں مگر ھیں بے جان
تیرا گلدستہ ی آذان بھی غمگین نظر آتا ھے

قدس!
اے عشق کی بستی
تیرے ہر غم کا مداوا بھی ابھی دور نہیں
آرہے ہیں تیری جانب تیرے احباب
بہت جلد تیرے سرپہ بھی آزادی کا سہرا ہوگا
تیری چوکھٹ پہ تیری فوج کا پہرہ ھوگا
تیری مسجد کے مصلے کا امام
یوسف زھرا ہوگا

قدس
وہ دن بھی کوئی دور نہیں
ماذنہ سے ترے جس روز صدائے شہہ دوران میں خطبہ ہوگا
ابن مریم تیری گلیوں میں بڑے ناز سے چلتے ہونگے
ان کے آگے میرا مولا میرا آقا ھوگا

قدس
وہ دن نہیں اب دور کہ تو غم سے نکل جائے گا
تیرا خاموش سماں خوشیوں کے موسم میں
بدل جائے گا


سیدسجاداطہرموسوی


موضوعات مرتبط: عمومی مطالب

تاريخ : جمعه دوم خرداد 1399 | 15:33 | نویسنده : سيد سجاد اطهر موسوي تبتي | نظر Comment

عالمی یوم قدس پر رہبر انقلاب اسلامی آيت اللہ العظمی خامنہ ای کا خطاب

 

بسم الله الرحمن الرحیم

 

و الحمد لله ربّ العالمین و صلی الله علی محمد و آله الطاهرین و صحبه المنتجبین و من تبعهم باحسان الی یوم الدین

 

ساری دنیا کے مسلمان بھائیوں اور بہنوں پر درود و سلام بھیجتا ہوں، اللہ تعالی سے مبارک مہینے رمضان میں ان کی عبادتوں کی قبولیت کی دعا کرتا ہوں، عید سعید فطر کی انھیں پیشگی مبارکباد دیتا ہوں اور ضیافت خداوندی کے اس مہینے میں موجود رہنے کی نعمت پر اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں۔

آج یوم قدس ہے۔ وہ دن جو امام خمینی کی جدت عمل سے قدس شریف اور مظلوم فلسطین کے بارے میں مسلمانوں کی آوازوں کو ایک لڑی میں پرونے کا ذریعہ بن گیا۔ ان چند عشروں میں اس سلسلے میں اس کا بنیادی کردار رہا اور ان شاء اللہ آئندہ بھی رہے گا۔ اقوام نے یوم قدس کا خیر مقدم کیا اور اسے اولین ترجیح یعنی فلسطین کی آزادی کا پرچم بلند رکھنے کے مشن کے طور پر منایا۔ استکبار اور صیہونیت کی بنیادی پالیسی مسلمان معاشروں کے اذہان میں مسئلہ فلسطین کو بے رنگ کر دینا اور فراموشی کی طرف دھکیل دینا ہے۔ سب کا فوری فریضہ اس خیانت کا سد باب ہے جو خود اسلامی ممالک میں دشمن کے سیاسی اور ثقافتی ایجنٹوں کے ذریعے انجام پا رہی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مسئلہ فلسطین ایسا قضیہ نہیں ہے جسے مسلمان اقوام کی غیرت، روز افزوں خود اعتمادی و بیداری فراموش ہو جانے دے گی۔ حالانکہ اس مقصد کے لئے امریکہ اور دیگر تسلط پسند طاقتیں اور ان کے مہرے اپنا پیسہ اور طاقت استعمال کر رہے ہیں۔

سب سے پہلی بات مملکت فلسطین کے غصب کر لئے جانے اور وہاں صیہونیت کا کینسر وجود میں آنے کے بڑے المئے کی یادہانی کرانا ہے۔ ماضی قریب کے ادوار کے انسانی جرائم میں اس پیمانے اور اس شدت کا کوئی اور جرم رونما نہیں ہوا۔ ایک ملک کو غصب کر لینا اور عوام الناس کو ہمیشہ کے لئے ان کے گھربار اور موروثی سرزمین سے بے دخل کر دینا وہ بھی قتل و جرائم، کھیتیوں اور نسلوں کی تباہی کی المناک ترین شکل میں  اور دسیوں سال تک اس تاریخی ستم کا تسلسل، حقیقت میں انسان کی درندگی اور شیطانی خو کا نیا ریکارڈ ہے۔

اس المئے کی اصلی مجرم اور ذمہ دار مغربی حکومتیں اور ان کی شیطانی پالیسیاں تھیں۔ جس دن پہلی عالمی جنگ کی فاتح حکومتیں مغربی ایشیا کے علاقے یعنی حکومت عثمانیہ کی ایشیائي قلمرو کو سب سے اہم مال غنیمت کے طور پر پیرس کانفرنس میں آپس میں تقسیم کر رہی تھیں، اس علاقے پر اپنے دائمی تسلط کے لئے اس کے قلب میں ایک محفوظ جگہ کی ضرورت انھیں محسوس ہوئی۔ برطانیہ نے برسوں پہلے بالفور منصوبہ پیش کرکے زمین ہموار کر دی تھی اور یہودی سرمایہ داروں کو ہم خیال بنا کر مشن کو آگے بڑھانے کے لئے صیہونزم نام کی بدعت تیار کر لی تھی۔

اب اس کے عملی مقدمات فراہم ہونے لگے تھے۔ انھیں برسوں سے بتدریج مقدمات ترتیب سے آمادہ کئے جا رہے تھے اور سرانجام دوسری عالمی جنگ کے بعد علاقے کی حکومتوں کی غفلت اور مشکلات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے انھوں نے اپنی ضرب لگائی اور جعلی اور بغیر قوم  کی حکومت کا اعلان کر دیا۔

اس ضرب کی زد پر سب سے پہلے ملت فلسطین اور اس کے بعد علاقے کی تمام اقوام تھیں۔

علاقے میں بعد کے واقعات کے جائزے سے پتہ چلتا ہے کہ مغربی حکومتوں اور یہودی سرمایہ داروں کا صیہونی حکومت کی تشکیل کا اصلی اور فوری مقصد مغربی ایشیا میں اپنے دائمی رسوخ اور موجودگی کے لئے ایک اڈا قائم کرنا اور علاقے کے ممالک اور حکومتوں کے امور میں دخل اندازی اور ان پر اپنی مرضی مسلط کرنے کے لئے قریب سے رسائی کے امکانات حاصل کرنا تھا۔ اسی لئے جعلی و غاصب حکومت کو طاقت کے گوناگوں عسکری و غیر عسکری وسائل یہاں تک کہ ایٹمی ہتھیاروں سے لیس کر دیا اور نیل سے فرات تک کے علاقے میں اس سرطان کی توسیع کو اپنے ایجنڈے میں جگہ دی۔

بد قسمتی سے بیشتر عرب حکومتوں نے ابتدائی مزاحمتوں کے بعد جن میں بعض قابل تعریف ہیں، بتدریج ہتھیار ڈال دئے اور خاص طور پر اس مسئلے کے ذمہ دار کے طور پر ریاستہائے متحدہ امریکہ کے وارد ہو جانے کے بعد انھوں نے انسانی، اسلامی اور سیاسی فریضے کو بھی اور اپنی عربی غیرت و حمیت کو بھی بالائے طاق رکھ دیا اور موہوم امیدیں لگا کر دشمن کے اہداف کی تکمیل میں مدد کی۔ کیمپ ڈیوڈ اس تلخ حقیقت کی واضح مثال ہے۔

مجاہد تنظیموں نے بھی شروع کے برسوں میں فداکارانہ جدوجہد کے بعد رفتہ رفتہ غاصب قوت اور اس کے حامیوں سے بے نتیجہ مذاکرات میں پڑ گئیں اور اس راستے کو ترک کر دیا جو فلسطین کی امنگیں پوری کر سکتا تھا۔ امریکہ اور دیگر مغربی حکومتوں اور بے اثر بین الاقوامی اداروں سے مذاکرات، فلسطین کا تلخ اور ناکام تجربہ ہے۔ اقوام متحدہ کیجنرل اسمبلی میں زیتون کی شاخ دکھانے کا نتیجہ اوسلو کے زیاں بار معاہدے کے علاوہ کچھ نہیں نکلا اور آخرکار یاسر عرفات کے عبرتناک انجام پر منتج ہوا۔

ایران میں اسلامی انقلاب کے طلوع سے فلسطین کے لئے جہاد کا نیا باب کھل گیا۔ پہلے قدم کے طور پر صیہونی عناصر کو باہر بھگانے جو طاغوتی (شاہی) دور میں ایران کو اپنا محفوظ ٹھکانا شمار کرتے تھے اور صیہونی حکومت کے غیر رسمی سفارت خانے کو فلسطینی نمائندہ دفتر کو سونپنے اور تیل کی سپلائی بند کرنے سے لیکر بڑے کاموں اور وسیع سیاسی اقدامات تک ساری کاروائیوں کے نتیجے میں پورے علاقے میں مزاحمتی محاذ وجود میں آیا اور مسئلے کے حل کی امید پیدا ہوئی۔ مزاحمتی محاذ کے نمودار ہو جانے کے بعد صیہونی حکومت کا کام سخت سے سخت تر ہوتا گیا۔ البتہ مستقبل میں ان شاء اللہ اور بھی سخت تر ہو جائے گا۔ لیکن اس رژیم کے حامیوں اور ان میں سر فہرست امریکہ نے اس کا دفاع بھی شدت کے ساتھ بڑھا دیا۔ لبنان میں مومن، نوجوان اور فداکار حزب اللہ کی تشکیل اور فلسطین کی سرحدوں کے اندر جوش و جذبے سے معمور تنظیموں حماس اور جہاد اسلامی کی تشکیل نے صیہونی عمائدین ہی نہیں بلکہ امریکہ اور دیگر مغربی دشمنوں کو مضطرب اور سراسیمہ کر دیا تو انھوں نے غاصب حکومت کی فکری و عسکری حمایت کے بعد علاقے کے اندر اور خود عرب معاشرے کے اندر سے ایجنٹوں کی بھرتی کو اپنے ایجنڈے میں شامل کر لیا۔ ان کی پیہم کوششوں کا نتیجہ آج بعض عرب حکومتوں کے عمائدین اور بعض خائن عرب سیاسی و ثقافتی کارکنوں کے روئے اور بیانوں میں نمایاں اور سب کی نظروں کے سامنے ہے۔

اس وقت مقابلہ آرائی کے میدان میں دونوں طرف سے گوناگوں سرگرمیاں نظر آ رہی ہیں، بس اس فرق کے ساتھ کہ مزاحمتی محاذ روز افزوں اقتدار و امید اور قوت کے عناصر کی فہرست میں مسلسل اضافے کی طرف گامزن ہے جبکہ اس کے برخلاف ظلم و کفر و استکبار کا محاذ روز بہ روز خالی ہاتھ، مایوس اور ناتواں ہوتا جا رہا ہے۔ اس خیال کی روشن دلیل یہ ہے کہ صیہونی فوج جو کبھی ناقابل تسخیر اور برق آسا سمجھی جاتی تھی اور جس نے دو حملہ آور ممالک کی بڑی افواج کو چند دنوں کے اندر روک سکتی تھی، آج لبنان اور غزہ میں عوامی مزاحمتی فورسز کے سامنے پسپا ہونے اور اعتراف شکست کرنے پر مجبور ہو جاتی ہے۔

اس کے باوجود مقابلہ آرائی کا میدان بہت خطرناک ہے، حالات کا رخ بدل جانے کا امکان ہے، دائمی نگرانی لازمی ہے اور اس مقابلہ آرائی کا موضوع حد درجہ اہم، فیصلہ کن اور حیاتی ہے۔ بنیادی تخمینوں میں کسی بھی طرح کی غفلت، سادہ فکری اور غلطی کے بڑے سنگین نقصانات ہوں گے۔

اس بنیاد پر میں ان تمام افراد کو جو مسئلہ فلسطین سے قلبی وابستگی رکھتے ہیں چند سفارشات کرنا چاہتا ہوں۔

1-      فلسطین کی آزادی کے لئے جنگ، راہ خدا میں جہاد، اسلامی مطالبہ اور فریضہ ہے۔ ایسی لڑائی میں فتح یقینی ہے، کیونکہ مجاہد شخص قتل ہو جانے کی صورت میں بھی احدی الحسنیین (دو عظیم نیکیوں میں سے کسی ایک) تک رسائی ضرور حاصل کر لے گا۔ اس کے علاوہ بھی مسئلہ فلسطین ایک انسانی مسئلہ ہے۔ دسیوں لاکھ انسانوں کو ان کے گھر، کھیت، زندگی گزارنے اور کسب معاش کرنے کی جگہ سے بے دخل کر دینا وہ بھی قتل اور مجرمانہ اقدامات کے ذریعے، ہر صاحب ضمیر انسان کو آزردہ خاطر اور متاثر کرتا ہے اور ہمت و شجاعت ہونے کی صورت میں اسے مقابلے پر اٹھ کھڑے ہونے کے لئے آمادہ کرتا ہے۔ اس لئے اسے صرف فلسطین کا مسئلہ یا زیادہ سے زیادہ عربوں کا مسئلہ قرار دے دینا بہت بڑی بھول ہے۔

جو لوگ چند فلسطینی عناصر یا چند عرب ممالک کے حکام کی مصالحتی کوششوں کو اس اسلامی اور انسانی مسئلے کو اس کے حال پر چھوڑ دینے کا جواز سمجھتے ہیں، وہ اس مسئلے کے ادراک میں شدید غلطی بلکہ بسا اوقات اس میں تحریف جیسی خیانت کے مرتکب ہو رہے ہیں۔

2-      اس پیکار کا اصلی مقصد سمندر سے دریا تک (یعنی بحیرہ روم سے دریائے اردن تک) پوری سرزمین فلسطین کی آزادی اور تمام فلسطینیوں کی وطن واپسی ہے۔ اس (عظیم مقصد) کو اس سرزمین کے کسی گوشے میں ایک حکومت کی تشکیل تک محدود کر دینا، وہ بھی اس تحقیر آمیز شکل میں جس کی بات بے ادب صیہونی کرتے ہیں، نہ حق جوئی کی علامت ہے اور نہ حقیقت پسندی کی نشانی۔ امر واقع یہ ہے کہ آج ملینوں فلسطینی فکر، تجربے اور خود اعتمادی کی اس منزل پر پہنچ چکے ہیں کہ اس عظیم جہاد کے لئے انھوں نے کمر ہمت باندھ لی ہے، البتہ انھیں نصرت خداوندی اور حتمی فتح کا یقین رکھنا چاہئے، کیونکہ ارشاد ہوا ہے؛ وَلَيَنصُرَنَّ اللَّهُ مَن يَنصُرُه إِنَّ اللَّهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزٌ .. بے شک دنیا میں بہت سے مسلمان ہیں جو ان شاء اللہ ان کی مدد کریں گے اور ان کے درد میں شریک ہوں گے۔

3-      اگرچہ اس لڑائی میں تمام حلال اور شرعی وسائل منجملہ عالمی حمایت سے استفادہ جائز ہے لیکن خاص طور پر مغربی حکومتوں اور ظاہری یا باطنی طور پر ان پر منحصر عالمی اداروں پر اعتماد کرنے سے پرہیز کرنا چاہئے۔ وہ ہر موثر اسلامی طاقت کے وجود کے دشمن ہیں۔ انھیں انسانوں اور اقوام کے حقوق کی کوئی پروا نہیں ہے۔ وہ خود مسلم امہ کو پہنچنے والے بیشتر نقصانات اور اس کے خلاف انجام پانے والے جرائم کے ذمہ دار ہیں۔ اس وقت کئی اسلامی و عرب ممالک میں جاری قتل عام، جنگ افروزی، بمباری یا مسلط کردہ خشکسالی کے سلسلے میں کون عالمی ادارہ یا جرائم پیشہ طاقت جوابدہ ہے؟

آج دنیا عالمی سطح پر کورونا سے ہونے والی اموات کو تو گن رہی ہے لیکن کسی نے نہیں پوچھا اور نہ پوچھے گا کہ جن ممالک میں امریکہ اور یورپ نے جنگ کی آگ بھڑکائی ہے وہاں لاکھوں افراد کی شہادت، قید اور گمشدگی کا ذمہ دار کون ہے؟ افغانستان، یمن، لیبیا، عراق، شام اور دیگر ممالک میں بہائے جانے والے اس خون ناحق کا ذمہ دار کون ہے؟ فلسطین میں جاری ان جرائم، غاصبانہ و تخریبی اقدامات اور مظالم کا ذمہ دار کون ہے؟ اسلامی ممالک کے دسیوں لاکھ مظلوم مردوں اور خواتین کو کوئی شمار کیوں نہیں کرتا؟ مسلمانوں کے قتل عام پر کوئی تعزیت کیوں نہیں دیتا؟ ملینوں فلسطینی ستر سال سے اپنے گھر بار سے دور جلا وطنی میں کیوں رہیں؟ مسلمانوں کے قبلہ اول کی کیوں توہین کی جائے؟ نام نہاد اقوام متحدہ اپنے فرائض پر عمل نہیں کر رہی ہے اور نام نہاد انسانی حقوق کی تنظیموں کو موت آ گئی ہے۔بچوں اور خواتین کے حقوق کے نعرےکا اطلاق یمن اور فلسطین کے مظلوم بچوں اور خواتین پر نہیں ہوتا۔

دنیا کی ظالم مغربی طاقتوں اور ان سے وابستہ عالمی اداروں کی یہ حالت ہے۔ علاقے میں ان کی بعض ہمنوا حکومتوں کی رسوائی اور ذلالت کی حالت ناگفتہ بہ ہے۔

تو غیور و دیندار مسلم معاشرے کے لئے ضروری ہے کہ اپنے اوپر اور اپنی داخلی توانائیوں پر تکیہ کرے، اپنا طاقتور ہاتھ آستین سے باہر لائے اور اللہ پر توکل اور اعتماد کرکے رکاوٹوں کو عبور کرے۔

4-      اہم نکتہ جو عالم اسلام کی سیاسی و دفاعی شخصیات کی نظر سے پنہاں نہیں رہنا چاہئے، تصادم اور جھڑپوں کو مزاحمتی محاذ کی پشت پر پہنچانے کی امریکہ اور صیہونیوں کی سیاست ہے۔ شام میں خانہ جنگی شروع کروانا، یمن کی ناکہ بندی اور وہاں شب و روز قتل عام، عراق میں ٹارگٹ کلنگ، تخریبی اقدامات اور داعش کی تشکیل، علاقے کے بعض دیگر ممالک میں ایسے ہی واقعات، یہ سب مزاحمتی محاذ کو الجھا دینے اور صیہونی حکومت کو موقع دینے کے حربے ہیں۔ بعض مسلم ممالک کے سیاستدانوں نے نادانستگی میں اور بعض نے دانستہ طور پر دشمن کے ان حربوں کی مدد کی ہے۔ اس خبیثانہ سیاست کے نفاذ کا سد باب کرنے کا طریقہ پورے عالم اسلام میں غیور نوجوانوں کی طرف سے پرزور مطالبہ ہے۔ تمام اسلامی ممالک اور خاص طور پر عرب ممالک میں نوجوانوں کو امام خمینی کی سفارشات کو نظر سے دور نہیں ہونے دینا چاہئے، جنہوں نے فرمایا: جتنا چیخنا ہے امریکہ پر اور بے شک صیہونی دشمن پر چیخئے۔

5-      علاقے میں صیہونی حکومت کی موجودگی کو معمول کی بات بنا دینا ریاستہائے متحدہ امریکہ کی سب سے بنیادی پالیسی ہے۔ علاقے کی بعض عرب حکومتیں جو امریکہ کے اشارے پر چلتی ہیں، اس کے لازمی مقدمات جیسے اقتصادی روابط قائم کرنے وغیرہ کا کام انجام دے رہی ہیں۔ یہ کوششیں سرے سے بے ثمر اور بے نتیجہ ہیں۔ صیہونی حکومت اس علاقے کے لئے ایک مہلک اضافہ اور سراپا نقصان ہے جو بلا شبہ ختم اور نابود ہو جائے گی اور ان لوگوں کے ہاتھ صرف ذلت اور بدنامی لگے گی جنہوں نے اپنے تمام وسائل اس استکباری سیاست کے لئے وقف کر رکھے ہیں۔ بعض اپنی اس پست روش کا یہ جواز پیش کرتے ہیں کہ صیہونی حکومت علاقے کی ایک حقیقت ہے، انھیں یہ یاد نہیں کہ مہلک اور زیاں بار حقیقتوں سے لڑنا اور انھیں ختم کرنا ہوتا ہے۔ آج کورونا ایک حقیقت ہے اور سارے باشعور افراد اس کے خلاف جنگ کو لازمی جانتے ہیں۔ صیہونزم کا دیرینہ وائرس بلا شبہ اب زیادہ نہیں ٹکے گا اور نوجوانوں کی ہمت، قوت ایمانی اور حمیت اس علاقے سے اسے اکھاڑ پھینکے گی۔

6-      میری سب سے بنیادی سفارش ہے جدوجہد کا تسلسل، مجاہد تنظیموں کی مزید تقویت، ان کا باہمی تعاون اور جہاد کا دائرہ پورے فلسطینی علاقوں تک پھیلانا۔ اس مقدس جہاد میں سب ملت فلسطین کی مدد کریں۔ سب کو چاہئے کہ فلسطینی مجاہدین کو پوری طرح لیس اور اس کی پشت پناہی بڑھائيں۔ اس راہ میں ہم فخر سے وہ سب کچھ صرف کریں گے جو ہمارے پاس ہوگا۔ ایک موقع پر ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ فلسطینی مجاہد کے پاس دین، غیرت اور شجاعت موجود ہے، اس کی واحد مشکل اسلحے کا نہ ہونا ہے۔ ہم نے نصرت و ہدایت خداوندی سے منصوبہ بندی کی اور نتیجہ یہ ہوا کہ فلسطین میں طاقت کا توازن بدل گیا اور آج غزہ صیہونی دشمن کی فوجی یلغار کے مقابلے میں کھڑا ہو سکتا ہے اور اسے مغلوب کر سکتا ہے۔ مقبوضہ فلسطین کہے جانے والے علاقے میں طاقت کے توازن کی تبدیلی مسئلہ فلسطین کو اس کی آخری منزل کے قریب کرے گی۔ اس مسئلے میں فلسطینی انتظامیہ کے دوش پر بہت سنگین ذمہ داری ہے۔ وحشی دشمن  سے صرف مقتدرانہ لہجے میں بات کرنا چاہئے اور اس قوت و طاقت کے لئے فلسطین کی شجاع اور مجاہد قوم کے اندر بحمد اللہ مقدمات فراہم ہیں۔ فلسطین نوجوان آج اپنی عزت نفس کے دفاع کے پیاسے ہیں۔ فلسطین میں حماس اور جہاد اسلامی نے اور لبنان میں حزب اللہ نے سب پر حجت تمام کر دی ہے۔ دنیا وہ دن نہ بھولی ہے اور نہ بھولے گی جب صیہونی فوج نے لبنان کی سرحد توڑی اور بیروت تک بڑھتی چلی گئی، اسی طرح وہ دن جب ایریئل شیرون نام کے مجرم نے صبرا و شتیلا میں خون کی ندیاں بہا دیں۔ اسی طرح وہ دن بھی نہ بھولی ہے اور نہ بھولے گي جب حزب اللہ کے زوردار حملوں کی وجہ سے اس فوج کے پاس کوئی راستہ نہیں بچا اور وہ بہت بڑا نقصان اٹھا کر اور شکست کا اعتراف کرکے لبنان کی سرحدوں سے پیچھے ہٹی اور جنگ بندی کے لئے التجائیں کرنے لگی۔۔۔ لیس ہونے اور مقتدارانہ انداز کا یہ نتیجہ ہے۔ اس یورپی حکومت کی بات جانے دیجئے جسے صدام حکومت کو کیمیائی ہتھیار فروخت کرنے پر ہمیشہ شرمسار رہنا چاہئے، اور وہ مجاہد و سرفراز حزب اللہ کو غیر قانونی قرار دیتی ہے۔ غیر قانونی تو امریکہ جیسی حکومت ہے جو داعش کی تشکیل کرتی ہے، غیر قانونی وہ یورپی حکومت ہے جس کے کیمیکل ہتھیاروں کی وجہ سے ایران کے بانہ اور عراق کے حلبچہ علاقوں میں ہزاروں افراد لقمہ اجل بن گئے۔

7-      آخری بات یہ ہے کہ فلسطین فلسطینیوں کا ہے اور اس کے امور انھیں کے ارادے کے مطابق انجام پانے چاہئے۔ فلسطین کے تمام ادیان اور قومیتوں کی شمولیت سے استصواب رائے کی جو تجویز ہم نے تقریبا دو عشرے قبل پیش کی ہے، وہ آج کے چیلنجوں اور فلسطین کے مستقبل کا واحد نتیجہ ہونا چاہئے۔ یہ تجویز ثابت کرتی ہے کہ یہودی دشمنی کے جو دعوے مغربی طاقتیں اپنے تشہیراتی ذرائع کی مدد سے دہراتی رہتی ہیں، بالکل بے بنیاد ہیں۔ اس تجویز کے مطابق فلسطینی یہودیوں، عیسائیوں اور مسلمانوں کو ایک ساتھ استصواب رائے میں شرکت اور فلسطین کے لئے سیاسی نظام کا تعین کرنا ہے۔ جسے ہر حال میں مٹنا ہے وہ صیہونی نظام ہے اور صیہونیت خود دین یہود میں ایک بدعت اور اس سے بالکل بیگانہ ہے۔ آخر میں شیخ احمد یاسین، فتحی شقاقی، سید عباس موسوی سے لیکر اسلام کے عظیم سردار اور مزاحمتی محاذ کی ناقابل فراموش ہستی شہید قاسم سلیمانی اور عراق کے عظیم مجاہد شہید ابو مہدی المہندس اور دیگر شہدائے قدس کو خراج عقیدت پیش کرتا ہوں اور عظیم الشان امام خمینی کی روح پر درود بھیجتا ہوں جنہوں نے عزت وجہاد کا یہ راستہ ہمارے لئے تعمیر کیا۔ اسی طرح برادر مجاہد حسین شیخ الاسلام مرحوم کے لئے جنہوں نے برسوں اس راہ میں زحمتیں اٹھائیں رحمت خداوندی کی دعا کرتا ہوں۔

والسلام علیکم و رحمة


موضوعات مرتبط: عمومی مطالب
برچسب‌ها: آیت اللہ خامنہ ای ، یوم القدس، سخنرانی رہبری ,

تاريخ : جمعه دوم خرداد 1399 | 15:19 | نویسنده : سيد سجاد اطهر موسوي تبتي | نظر Comment

مناجات شعبانيه

بلتی ترجمہ کے ساتھ

مترجم سید سجاداطہرموسوی

ابن خالویہ سی زیرفو نہ زومسے ، امیرالمومنینی فیقپونہ امام کن جمادی سی شعبانی لزینگ دی دعاپو کسل بیونین شخفن پا۔

اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ وَ اسْمَعْ دُعَائِی إِذَا دَعَوْتُکَ وَ اسْمَعْ نِدَائِی إِذَا نَادَیْتُکَ وَ أَقْبِلْ عَلَیَّ إِذَا نَاجَیْتُکَ فَقَدْ هَرَبْتُ إِلَیْکَ وَ وَقَفْتُ بَیْنَ یَدَیْکَ مُسْتَکِینا لَکَ مُتَضَرِّعا إِلَیْکَ رَاجِیا لِمَا لَدَیْکَ ثَوَابِی وَ تَعْلَمُ مَا فِی نَفْسِی وَ تَخْبُرُ حَاجَتِی وَ تَعْرِفُ ضَمِیرِی وَ لا یَخْفَى عَلَیْکَ أَمْرُ مُنْقَلَبِی وَ مَثْوَایَ وَ مَا أُرِیدُ أَنْ أُبْدِئَ بِهِ مِنْ مَنْطِقِی وَ أَتَفَوَّهَ بِهِ مِنْ طَلِبَتِی وَ أَرْجُوهُ لِعَاقِبَتِی وَ قَدْ جَرَتْ مَقَادِیرُکَ عَلَیَّ یَا سَیِّدِی فِیمَا یَکُونُ مِنِّی إِلَى آخِرِ عُمْرِی مِنْ سَرِیرَتِی وَ عَلانِیَتِی وَ بِیَدِکَ لا بِیَدِ غَیْرِکَ زِیَادَتِی وَ نَقْصِی وَ نَفْعِی وَ ضَرِّی إِلَهِی إِنْ حَرَمْتَنِی فَمَنْ ذَا الَّذِی یَرْزُقُنِی وَ إِنْ خَذَلْتَنِی فَمَنْ ذَا الَّذِی یَنْصُرُنِی.

الٰہی! محمد نه آل محمدي کها درود دوکپه سونگ، ديبنه نامي سه نا يانگله بڑنگفي وخلا ني تم کن لا سنا بيوس، ينگ نا يانگله سکد زيرفي وخلا ني سکد پو لا سنا بيوس، ينگ نامي سا نا يانگله جوفل چي بيس نا ياني قبول بيوس، خدايا نا (دنيادي ژهڑنگ کني شيدانا) شورے یری شیدا اونگسید، دیبنہ سومید گنمیدی بزویکھا یری دونو لنگسے دوکسے یانی منمی شیزدیونگ لا رئین چی یود، دیبنہ یانگلہ نی سنینینگ یود پونگ نوزین یود، نی تونگونگ یانگلہ خبریود، نی خسمجوخ کن یانگلہ ہرتقفہ یود، نہ لوقسے گوے ملسو نہ نی ہرتین دوک ننگ پو یری کھنہ خسنگے مید، ینگ ناسی ہلچئے کھا چی زیربی ان، ینگ گا تونگوے جوفل بے ان، دیبنہ نی سنینینگ نری لسجوگی لوکھسیگ چی غدینگمے یود زیربو یانگلہ نوزین میدپے مید، دیبنہ چھدکھیکھا یانی نی ژھینگنو نلا مقدر بیسپونگ ژھنگمہ خسنگسے بیونگسے نیکھا رگلین یود، ینگ نلا سکید پو نہ بڑیو ینگ زدوکھر نہ فنکھئے تھونمو یری لقتو یود یانگ مید پہ ینگ سوی لقتو مید، الہی، پغزی یانی نلا شیزدیونگ زگقسنہ رے نلا روزی من کھن پو ینگ سویود؟ پغزی یانی نا ہرژسمید بیسنہ رے نلا روخ بیہ کھن پو ینگ سو یود؟


موضوعات مرتبط: ادعيه و زيارات
برچسب‌ها: مناجات شعبانیہ، بلتی زبان ، بلتی مناجات ,

تاريخ : دوشنبه بیست و پنجم فروردین 1399 | 22:46 | نویسنده : سيد سجاد اطهر موسوي تبتي | نظر Comment

إِلَهِی أَعُوذُ بِکَ مِنْ غَضَبِکَ وَ حُلُولِ سَخَطِکَ إِلَهِی إِنْ کُنْتُ غَیْرَ مُسْتَأْهِلٍ لِرَحْمَتِکَ فَأَنْتَ أَهْلٌ أَنْ تَجُودَ عَلَیَّ بِفَضْلِ سَعَتِکَ إِلَهِی کَأَنِّی بِنَفْسِی وَاقِفَهٌ بَیْنَ یَدَیْکَ وَ قَدْ أَظَلَّهَا حُسْنُ تَوَکُّلِی عَلَیْکَ فَقُلْتَ [فَفَعَلْتَ‏]مَا أَنْتَ أَهْلُهُ وَ تَغَمَّدْتَنِی بِعَفْوِکَ إِلَهِی إِنْ عَفَوْتَ فَمَنْ أَوْلَى مِنْکَ بِذَلِکَ وَ إِنْ کَانَ قَدْ دَنَا أَجَلِی وَ لَمْ یُدْنِنِی [یَدْنُ‏]مِنْکَ عَمَلِی فَقَدْ جَعَلْتُ الْإِقْرَارَ بِالذَّنْبِ إِلَیْکَ وَسِیلَتِی إِلَهِی قَدْ جُرْتُ عَلَى نَفْسِی فِی النَّظَرِ لَهَا فَلَهَا الْوَیْلُ إِنْ لَمْ تَغْفِرْ لَهَا إِلَهِی لَمْ یَزَلْ بِرُّکَ عَلَیَّ أَیَّامَ حَیَاتِی فَلا تَقْطَعْ بِرَّکَ عَنِّی فِی مَمَاتِی إِلَهِی کَیْفَ آیَسُ مِنْ حُسْنِ نَظَرِکَ لِی بَعْدَ مَمَاتِی وَ أَنْتَ لَمْ تُوَلِّنِی [تُولِنِی‏]إِلا الْجَمِیلَ فِی حَیَاتِی.

الٰہی! ناسی یری خہ نہ ہرپو فوقپی شیدانہ یری فقرہ ژلید، الہی، پغزی نہ یری خش ترود نہ بیورمو مہ سونگنارے یری پھل پھو یودپی شیزدیونی کھا یانی نلا بخشش بیسنہ بیورید، الہی، نا نری گنگڑگیہ یودلوکھ پویکھا یری جوبیس لا اونگسے یود دیبنہ یری کھا یودپی سنینگ کھوم پوبی نی یودلوکھ پوے کھا گڑیمفق بیسے یود، دیبنہ نا نہ بیورمویودپی سنہ ژھنگ یانی بیسے نی یودلوکھپو یانی بخشیشی کھا سنوبسید۔ الہی، پغزی بخشش بیسنارے  دو سہ یانگ پہ ژے ینگ سولا بیورید؟ ینگ پغزی نی شی وخ پو نمور سونگسے نی عمل کنی کھا نا یانگ نہ نمور سونگفہ مید نارے ناسی نری نسپونگ لا ان زیربو یری ڑگیزگویکھا تھونمی کسکہ بیسید۔ الہی! ناسی نری ستروق پویکھا نانگلہ ینفو بیسے نسپونی زگل کلسید، تہ یانی بخشش مبیسنارے کھوے ملسو ویل گوے ان۔ الہی! نی ژھینگ نو ژھن نما یری لیخمونگ لا برچی مسونگ، تہ نی شی وخلا یری لیخمونگ نہ نا برمفیس۔ الہی نلا یری خش کنی کھنہ چی بزویکھا غدینگ چھود گوا ینوک؟ چازیربنہ یانی نی ژھیو نلا لیخموبین سنانا یقسید۔


موضوعات مرتبط: ادعيه و زيارات
برچسب‌ها: مناجات شعبانیہ، بلتی زبان ، بلتی مناجات ,

تاريخ : دوشنبه بیست و پنجم فروردین 1399 | 22:39 | نویسنده : سيد سجاد اطهر موسوي تبتي | نظر Comment

إِلَهِی تَوَلَّ مِنْ أَمْرِی مَا أَنْتَ أَهْلُهُ وَ عُدْ عَلَیَّ بِفَضْلِکَ عَلَى مُذْنِبٍ قَدْ غَمَرَهُ جَهْلُهُ إِلَهِی قَدْ سَتَرْتَ عَلَیَّ ذُنُوبا فِی الدُّنْیَا وَ أَنَا أَحْوَجُ إِلَى سَتْرِهَا عَلَیَّ مِنْکَ فِی الْأُخْرَى [إِلَهِی قَدْ أَحْسَنْتَ إِلَیَ‏]إِذْ لَمْ تُظْهِرْهَا لِأَحَدٍ مِنْ عِبَادِکَ الصَّالِحِینَ فَلا تَفْضَحْنِی یَوْمَ الْقِیَامَهِ عَلَى رُءُوسِ الْأَشْهَادِ إِلَهِی جُودُکَ بَسَطَ أَمَلِی وَ عَفْوُکَ أَفْضَلُ مِنْ عَمَلِی إِلَهِی فَسُرَّنِی بِلِقَائِکَ یَوْمَ تَقْضِی فِیهِ بَیْنَ عِبَادِکَ إِلَهِی اعْتِذَارِی إِلَیْکَ اعْتِذَارُ مَنْ لَمْ یَسْتَغْنِ عَنْ قَبُولِ عُذْرِهِ فَاقْبَلْ عُذْرِی یَا أَکْرَمَ مَنِ اعْتَذَرَ إِلَیْهِ الْمُسِیئُونَ.

الہی! یانی نی لوکھسی لسنونگ  یانگ بیورمو انمی بزویکھا ملا کھیونگ، دیبنہ یری شیزدیونگ  جھلی ٹھوبی گویکھنہ کنگمہ تھونے من ہیوقسے یودپی نا نسپہ چنی فیوخلا ینگ لزوقسے تونگ۔ الہی! دنیادینگنو یانی پردہ تنگسے نی نسپوینگ ہیوقسے یقس، دیبنہ آخرت لا سا نی دے نسپوینگ ہیوقسے یقپو نلا لیگی رگوسپہ یود۔ الہی! یانی نلا لیخمو بیسے نی نسپوینگ دنیادینگ یری بزنگمہ بڑن کن لا تھونگمی شیدا نہ خسنگسے یقس تہ دوسے نہ قیامتی جقلا یانی لدنچوکفی مژھونی دونو نا ہرژسمید گو مچوک۔ الہی! یری بزنگ لوکھ پوبی نی تونگونگ سکیدچوکسید، دیبنہ یری بخشش پو نی عمل کن پہ تھوسے یود۔ الہی!یانی یری بڑن کنی لوکھسینگ قضاوت بے جقپوبینگنو یانگ نہ تھوکچوکسے نلا تھدکھے گوچوک۔ الہی! نا یری تھوالہ فڑدین یود پو دے سوچک کنی تھوفڑد بیونہ ژوخ ان، دونگی تھوفڑد پو ہرژن چوکسے میدپہ دوکپہ مید، تہ یانی نی تھوفڑد پو ہرژن چوک لے نسپہ چن کنی تھوالہ فڑد کھن گنگمہ پہ شیزدے چن اشی۔


موضوعات مرتبط: ادعيه و زيارات
برچسب‌ها: مناجات شعبانیہ، بلتی زبان ، بلتی مناجات ,

تاريخ : دوشنبه بیست و پنجم فروردین 1399 | 22:37 | نویسنده : سيد سجاد اطهر موسوي تبتي | نظر Comment

إِلَهِی لا تَرُدَّ حَاجَتِی وَ لا تُخَیِّبْ طَمَعِی وَ لا تَقْطَعْ مِنْکَ رَجَائِی وَ أَمَلِی إِلَهِی لَوْ أَرَدْتَ هَوَانِی لَمْ تَهْدِنِی وَ لَوْ أَرَدْتَ فَضِیحَتِی لَمْ تُعَافِنِی إِلَهِی مَا أَظُنُّکَ تَرُدُّنِی فِی حَاجَهٍ قَدْ أَفْنَیْتُ عُمُرِی فِی طَلَبِهَا مِنْکَ إِلَهِی فَلَکَ الْحَمْدُ أَبَدا أَبَدا دَائِما سَرْمَدا یَزِیدُ وَ لا یَبِیدُ کَمَا تُحِبُّ وَ تَرْضَى إِلَهِی إِنْ أَخَذْتَنِی بِجُرْمِی أَخَذْتُکَ بِعَفْوِکَ وَ إِنْ أَخَذْتَنِی بِذُنُوبِی أَخَذْتُکَ بِمَغْفِرَتِکَ وَ إِنْ أَدْخَلْتَنِی النَّارَ أَعْلَمْتُ أَهْلَهَا أَنِّی أُحِبُّکَ إِلَهِی إِنْ کَانَ صَغُرَ فِی جَنْبِ طَاعَتِکَ عَمَلِی فَقَدْ کَبُرَ فِی جَنْبِ رَجَائِکَ أَمَلِی إِلَهِی کَیْفَ أَنْقَلِبُ مِنْ عِنْدِکَ بِالْخَیْبَهِ مَحْرُوما وَ قَدْ کَانَ حُسْنُ ظَنِّی بِجُودِکَ أَنْ تَقْلِبَنِی بِالنَّجَاهِ مَرْحُوما إِلَهِی وَ قَدْ أَفْنَیْتُ عُمُرِی فِی شِرَّهِ السَّهْوِ عَنْکَ وَ أَبْلَیْتُ شَبَابِی فِی سَکْرَهِ التَّبَاعُدِ مِنْکَ إِلَهِی فَلَمْ أَسْتَیْقِظْ أَیَّامَ اغْتِرَارِی بِکَ وَ رُکُونِی إِلَى سَبِیلِ سَخَطِکَ.

الہی! نی جوفل کن لزوقسے مفونگ، ینگ نی سنینگ تون مہ فیونگ مہ میوق، دیبنہ نی تونگو نہ غدینگمی سکوتپو یری فیوخلانگ چھد مچوک۔ الہی! پغزی یانی نا بڑوسمید گوچوکپی انسوک نارے یانی نلا ترنگموے لم پو ہلتنمی مین پا، ینگ نا ہرژسمید گوچوکپی ان سوکنارے نلا ڑدن شیزدے بے مین پہ۔ الہی! نلا یانی سی یری کھنہ ژلین نری ژھیو رگل چوکفی تونگو مہ فیونگمہ لزوقسے تنگنوک خسم مید۔ الہی! یانگلہ ستودید لے اشی، ہرتینے لوسپی ستودکھونگ، تھودے دوکپی، ژھنگسہ مید پی ستودکھونگ، جق پہ جق سکیدپی دیبنہ بڑولو چک می بڑئیے ستودکھونگ، یانگ تھدپو نہ یانگ رنمی بزویکھا۔ الہی! پغزی یانی نا نی جرم پولا ہلتسے زونسنارے ناسی یانی عفو بیولا ہلتسے یانگ زونید، دیبنہ یانی نی نسپونگ لا ہلتسے نا زونسنارے ناسی یری بخشش پولا ہلتسے یانگ زونید، ینگ پغزی یانی نا دوزخینگ تنگسنارے دینگ یود کھن لا چھدکھیکھا نا یانگلہ رگہ کھن زیربو نوزین گوچوکپی ان۔ الہی! پغزی نی عمل کن یری تمنیان نہ زومسے ژھونژے یود نا، یری کھہ یقسے یودپی نی غدینگمو چھوغو یود۔ الہی! چی بزویکھا نا یری شیدانہ غدینگمیدی بزویکھا لقستونگ پو لوقسے گوا؟ چیا زیربنہ نلا یری شیزدیونگ نہ بزنگ پو تھونگسے یانی نلا بخشش شیزدے بیسے لزوقسے تنگنوک خسمسے اونگسید۔ الہی! ناسی نری ژھیو یانگ بجیدے دوکسے ژھورمیدیکھا چھم چوکس، دیبنہ نری جوانیو یانگ نہ تھقرینگ رڑوس سونگسے رگل چوکس۔ الہی! نلا نانگ تھونگمی نمزینگنو نلا یری شنگ میونگس، دیبنہ نری خسمبیگ دوکسے یری ہرپو فوقتوک زیربی سہ شنگ میونگس۔


موضوعات مرتبط: ادعيه و زيارات
برچسب‌ها: مناجات شعبانیہ، بلتی زبان ، بلتی مناجات ,

تاريخ : دوشنبه بیست و پنجم فروردین 1399 | 22:36 | نویسنده : سيد سجاد اطهر موسوي تبتي | نظر Comment

إِلَهِی وَ أَنَا عَبْدُکَ وَ ابْنُ عَبْدِکَ قَائِمٌ بَیْنَ یَدَیْکَ مُتَوَسِّلٌ بِکَرَمِکَ إِلَیْکَ إِلَهِی أَنَا عَبْدٌ أَتَنَصَّلُ إِلَیْکَ مِمَّا کُنْتُ أُوَاجِهُکَ بِهِ مِنْ قِلَّهِ اسْتِحْیَائِی مِنْ نَظَرِکَ وَ أَطْلُبُ الْعَفْوَ مِنْکَ إِذِ الْعَفْوُ نَعْتٌ لِکَرَمِکَ إِلَهِی لَمْ یَکُنْ لِی حَوْلٌ فَأَنْتَقِلَ بِهِ عَنْ مَعْصِیَتِکَ إِلا فِی وَقْتٍ أَیْقَظْتَنِی لِمَحَبَّتِکَ وَ کَمَا أَرَدْتَ أَنْ أَکُونَ کُنْتُ فَشَکَرْتُکَ بِإِدْخَالِی فِی کَرَمِکَ وَ لِتَطْهِیرِ قَلْبِی مِنْ أَوْسَاخِ الْغَفْلَهِ عَنْکَ إِلَهِی انْظُرْ إِلَیَّ نَظَرَ مَنْ نَادَیْتَهُ فَأَجَابَکَ وَ اسْتَعْمَلْتَهُ بِمَعُونَتِکَ فَأَطَاعَکَ یَا قَرِیبا لا یَبْعُدُ عَنِ الْمُغْتَرِّ بِهِ وَ یَا جَوَادا لا یَبْخَلُ عَمَّنْ رَجَا ثَوَابَهُ إِلَهِی هَبْ لِی قَلْبا یُدْنِیهِ مِنْکَ شَوْقُهُ وَ لِسَانا یُرْفَعُ إِلَیْکَ صِدْقُهُ وَ نَظَرا یُقَرِّبُهُ مِنْکَ حَقُّهُ إِلَهِی إِنَّ مَنْ تَعَرَّفَ بِکَ غَیْرُ مَجْهُولٍ وَ مَنْ لاذَ بِکَ غَیْرُ مَخْذُولٍ وَ مَنْ أَقْبَلْتَ عَلَیْهِ غَیْرُ مَمْلُوکٍ [مَمْلُولٍ‏].

الہی! دیبنہ نا یری ژون لا سکیسپی ژون ان دوسے یری دونو لنگسے یود، یری شیزدے کھا یری تھوالہ فڑدین یود۔ الہی! نا دینے ژون چی ان، یری دونو کھڑیل میدی بزویکھا یانگلہ تھونین بیسپی غونیونی کھا بتنگ اونگسے یود ، دیبنہ یری کھنہ ناسی بخشش ژلید، چازیربنہ بخشش بیایودپو یانگ شیزدے چن لا بیوربی ستودکھونی شیدانہ ان۔ الہی! نلا نہ دینے کھیودچی مید دوبی کھا ہرٹن یقسے نسپینگ نہ بیونگسے یری فیوخلا اونگمی، مگر اینکہ یانی یری خشیکھا نلا شنگ ژھورچی شیزدے بیسے نا یانگ تھدپی بڑن چی گوچوکسے میدپہ۔ دیبنہ نا سی یانی نا یری شیزدیونگ نہ بیورمو گوچوکفی ، ینگ نی سنینگ پو یانگ بجیدے دوکپی شیدانہ ہلژخمہ بیسپی لوکھسینگ یانگلہ شکر بید۔ الہی! نلا چک ہلتوسی، یانگ لا سکد زیرین یانگ ژلے اونگ کھن پولا چک ہلتوسی، یانی روخ بیسے سترنگمنہ یانی سکلفو بیہ کھن پولا چک ہلتوسی۔ لے ڑگیزگویکھا اونگکھن کنی شیدانہ تھقرینگ مگوا نمور شخفی اشی، ینگ لے شیزدے ژلے اونگکھن کن لا لقژھیک مبیا کڑل بی اشی۔ الہی! نلا دینے سنینگ چی شزدے بیوس دوبی ہرتینے یانگ نہ نمور گوایودپی فڑالوکھ بیا، ینگ دینے ہلچئے شیزدے بیوس دوبی زیرفی کھترنگ پو یری فیوخلا تھونمو گوا،ینگ دینے مک چی شیزدے بیوس دوبی یانگ نہ نمورگوے لم پو ژلبا۔ الہی! چھدکھیکھا سوچک یانی مینگ بیونگ بیسنہ کھو نوبسے می خڈپی ان، سوچک لا یانی بڑنگسہ منسنہ دو ہرژسمید می گوے ان، ینگ گاسوی فیوخلا یانی غدونگ بیسنہ دو ینگ سوی ژون میگوے ان۔


موضوعات مرتبط: ادعيه و زيارات
برچسب‌ها: مناجات شعبانیہ، بلتی زبان ، بلتی مناجات ,

تاريخ : دوشنبه بیست و پنجم فروردین 1399 | 22:34 | نویسنده : سيد سجاد اطهر موسوي تبتي | نظر Comment

إِلَهِی إِنَّ مَنِ انْتَهَجَ بِکَ لَمُسْتَنِیرٌ وَ إِنَّ مَنِ اعْتَصَمَ بِکَ لَمُسْتَجِیرٌ وَ قَدْ لُذْتُ بِکَ یَا إِلَهِی فَلا تُخَیِّبْ ظَنِّی مِنْ رَحْمَتِکَ وَ لا تَحْجُبْنِی عَنْ رَأْفَتِکَ إِلَهِی أَقِمْنِی فِی أَهْلِ وَلایَتِکَ مُقَامَ مَنْ رَجَا الزِّیَادَهَ مِنْ مَحَبَّتِکَ إِلَهِی وَ أَلْهِمْنِی وَلَها بِذِکْرِکَ إِلَى ذِکْرِکَ وَ هِمَّتِی فِی رَوْحِ نَجَاحِ أَسْمَائِکَ وَ مَحَلِّ قُدْسِکَ إِلَهِی بِکَ عَلَیْکَ إِلا أَلْحَقْتَنِی بِمَحَلِّ أَهْلِ طَاعَتِکَ وَ الْمَثْوَى الصَّالِحِ مِنْ مَرْضَاتِکَ فَإِنِّی لا أَقْدِرُ لِنَفْسِی دَفْعا وَ لا أَمْلِکُ لَهَا نَفْعا

الہی! سوچیگی یری لم پو غدمسنہ دولا عود برید، ینگ سوچیگی یری کھنہ فقرہ ژلسنہ دو بڑنگسہ تھوبید، تہ ناسہ یری کھنہ فقرہ ژلے اونگسید لے نی اشی، تہ یانی نی کھوقشخ پو یری رحمتی شیدانہ غدینگمید گو مچوک،دیبنہ یری ترود پو نیکھنہ لینمے گومچوک۔ الہی! نا یری رگہ کھن کنی برینگ یوق دینے ملسیئکھا یوق دیکھنہ یری خش پو تھلبی غدینگ گوید۔ الہی!ستروق تنگسے یری ایوتیو بين دوکپوہرتینے یانی نی سنینگپولا ژھور چوگین یوق، دیبنہ یری ہلژخمہ منتخ کن نہ یری ہلژنگدقسی ملسوبیکھا تھونمافری نلا ان شیزدے بیوس۔ الہی! یانگلہ یری حق نہ دریسے نزگق، نا یری تم نین بیہ کھن کن نہ یری تھدکھو نہ بیورکھن کنی ملسو بیکھا تھون چوکسے میدپہ میوق، چیا زیربنہ نلا ہنہ نری کھا اونگمی زدوکھر کن تھقرینگ بے ان چی مید، ہنہ نانگلہ فنکھئے تھون چوکپی کھیود چی مید۔


موضوعات مرتبط: ادعيه و زيارات
برچسب‌ها: مناجات شعبانیہ، بلتی زبان ، بلتی مناجات ,

تاريخ : دوشنبه بیست و پنجم فروردین 1399 | 22:33 | نویسنده : سيد سجاد اطهر موسوي تبتي | نظر Comment

إِلَهِی أَنَا عَبْدُکَ الضَّعِیفُ الْمُذْنِبُ وَ مَمْلُوکُکَ الْمُنِیبُ [الْمَعِیبُ‏]فَلا تَجْعَلْنِی مِمَّنْ صَرَفْتَ عَنْهُ وَجْهَکَ وَ حَجَبَهُ سَهْوُهُ عَنْ عَفْوِکَ إِلَهِی هَبْ لِی کَمَالَ الانْقِطَاعِ إِلَیْکَ وَ أَنِرْ أَبْصَارَ قُلُوبِنَا بِضِیَاءِ نَظَرِهَا إِلَیْکَ حَتَّى تَخْرِقَ أَبْصَارُ الْقُلُوبِ حُجُبَ النُّورِ فَتَصِلَ إِلَى مَعْدِنِ الْعَظَمَهِ وَ تَصِیرَ أَرْوَاحُنَا مُعَلَّقَهً بِعِزِّ قُدْسِکَ إِلَهِی وَ اجْعَلْنِی مِمَّنْ نَادَیْتَهُ فَأَجَابَکَ وَ لاحَظْتَهُ فَصَعِقَ لِجَلالِکَ فَنَاجَیْتَهُ سِرّا وَ عَمِلَ لَکَ جَهْرا.

الہی! نایری نسپہ چن ڑدن مید بڑن ان، ینگ یری دونو گیود کھورے توبہ بیسی ژون ان، نا یانی سی غدونگ  ہرپوشخصے غدونگ لزوقفی دے سوچک کنی شیدا نہ گو مچوک، ینگ دے سوچک کنی شیدانہ سہ گومچوک دونگ لا یانگ بجیدے دوکفی کھا یری شیزدیونگی شیدانہ لق کھڑوسید۔الہی! نا اے گنگمہ نہ چھدے یانگ نہ تھودے دوکپی لوکھسینگ گنگڑگیہ گوچوک،دیبنہ نی سنینگی مک پو یری فیوخلا ہلتین دوکپہ فری سنگ سنگ گوچوک،دی بزویکھا سنینگی مک پو لا نوری پردونگ گنگمہ ترسے یری تھوسلوکھ پولا ہلتا ینوک، دیکھنہ نئی ستروق کن یر ہلژنگدقسی رنتھوس پونہ تھودپہ گیگ۔ الہی! نادے سوچک کنی شیدانہ گوچوک دونی سی یانگلہ سکد زیربنہ یانگ کھونی غویکھا تھونسید، کھونگ لا یانی سنانا بیانا یری ہشوش نا تھوسلوکھ پو تھونگسے شنگ تروسید،دیبنہ یانی کھونگ لا یری خسنگ زبسی تم کن کسل بیونگمنہ کھونی سی نونے بیونگسے یانگ لا فچولسید۔


موضوعات مرتبط: ادعيه و زيارات
برچسب‌ها: مناجات شعبانیہ، بلتی زبان ، بلتی مناجات ,

تاريخ : دوشنبه بیست و پنجم فروردین 1399 | 22:31 | نویسنده : سيد سجاد اطهر موسوي تبتي | نظر Comment

إِلَهِی لَمْ أُسَلِّطْ عَلَى حُسْنِ ظَنِّی قُنُوطَ الْإِیَاسِ وَ لا انْقَطَعَ رَجَائِی مِنْ جَمِیلِ کَرَمِکَ إِلَهِی إِنْ کَانَتِ الْخَطَایَا قَدْ أَسْقَطَتْنِی لَدَیْکَ فَاصْفَحْ عَنِّی بِحُسْنِ تَوَکُّلِی عَلَیْکَ إِلَهِی إِنْ حَطَّتْنِی الذُّنُوبُ مِنْ مَکَارِمِ لُطْفِکَ فَقَدْ نَبَّهَنِی الْیَقِینُ إِلَى کَرَمِ عَطْفِکَ إِلَهِی إِنْ أَنَامَتْنِی الْغَفْلَهُ عَنِ الاسْتِعْدَادِ لِلِقَائِکَ فَقَدْ نَبَّهَتْنِی الْمَعْرِفَهُ بِکَرَمِ آلائِکَ إِلَهِی إِنْ دَعَانِی إِلَى النَّارِ عَظِیمُ عِقَابِکَ فَقَدْ دَعَانِی إِلَى الْجَنَّهِ جَزِیلُ ثَوَابِکَ إِلَهِی فَلَکَ أَسْأَلُ وَ إِلَیْکَ أَبْتَهِلُ وَ أَرْغَبُ وَ أَسْأَلُکَ أَنْ تُصَلِّیَ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ وَ أَنْ تَجْعَلَنِی مِمَّنْ یُدِیمُ ذِکْرَکَ وَ لا یَنْقُضُ عَهْدَکَ وَ لا یَغْفُلُ عَنْ شُکْرِکَ وَ لا یَسْتَخِفُّ بِأَمْرِکَ إِلَهِی وَ أَلْحِقْنِی بِنُورِ عِزِّکَ الْأَبْهَجِ فَأَکُونَ لَکَ عَارِفا وَ عَنْ سِوَاکَ مُنْحَرِفا وَ مِنْکَ خَائِفا مُرَاقِبا یَا ذَا الْجَلالِ وَ الْإِکْرَامِ وَ صَلَّى اللَّهُ عَلَى مُحَمَّدٍ رَسُولِهِ وَ آلِهِ الطَّاهِرِینَ وَ سَلَّمَ تَسْلِیما کَثِیرا.

الہی! نلایریکھا یودپی غدینگ پو یکھا سنینگ گڑنگ فوق لہ ڑگیل مہ من، دیبنہ یری سنہ رگہ چن شیزدیونی شیدانہ نلا غدینگچھود گو مچوک۔ الہی! پغزی نی نسپونی روہلتری یانی نا یری نظرینگنہ تھقرینگ بیسید نارے، نلا یری کھہ یودپی سنینگ چھیس پوبی فری نی نسپونگ متھونگ زوم بیوس۔ الہی! پغزی نسپونی سی نا یری خش پوبی شیدانہ تھقرینگ بیسیدنارے ، دونہ یمبو نلا یری شیزدیونی کھہ چھیسلوکھ کھوربی ژھور منسید۔ الہی!پغزی غفلت پوبی سی نیدینگ یقسے نا یانگنہ متھوکپہ خڈسید نارے،دیکھا یری خش نہ شیزدیونگ نوزین گوے لوکھسینگ نلا شنگ لزوقسيد۔ الہی! یری ٹق ٹق عقاب پوبی نلا دوزخی فیوخ لا اونگ زیرسنہ، یری تھیکھ میدپی ثواب پوبی نلا بہشتی فیوخلا اونگ زیرید۔ الہی! ناسی یانگلہ جوفل بید، یری جوبیس لا دوکسے نوید،ینگ نی غدینگمو یری فیوخ لا خچوسے یود، دیبنہ ناسی یری کھنہ ژلید یانی محمد نہ آل محمدی کھ  درود کسل بیونگ، دیبنہ نا دے سوچک کنی شیدانہ گوچوک دونی ہلچیکھا ہرتینے یری ذکر بین دوگید، یانگ نہ بیسپی چھد پو چقپہ مید،یری ڑگیزگو لا شکر بیوبی شیدا نہ غافل دوکپہ مید، ینگ یری کسل کن ہرژسمید شیسپہ مید۔ الہی! نایری لیگی نہ تھوسلوکھ یودپی دے عود پونہ تھوک چوک، دو سونگنہ نلا یری ذات پو لیخمو بیسے نوزین گیگ، یانگ مینمہ اینوق گنگمے کھنہ تھقرینگ گیگ،ینگ یری ہرپوے شیدانہ سترونگسے دوکتوک۔ لے چھوغوے لوکھسینگ سینگ پہ چھوغوتھوسلوکھ چن اشی، دیبنہ یانی فبسے تنگفی محمد نہ کھوری ہلژخمہ آل کنی کھا یری تھوتھیکھ میدپی درود نہ سلام دوکپہ سونگ.

مترجم سید سجاداطہرموسوی


موضوعات مرتبط: ادعيه و زيارات
برچسب‌ها: مناجات شعبانیہ، بلتی زبان ، بلتی مناجات ,

تاريخ : دوشنبه بیست و پنجم فروردین 1399 | 22:29 | نویسنده : سيد سجاد اطهر موسوي تبتي | نظر Comment

شعر ہفت سین نوروز ۱۳۹۹


در عزا بودیم بجا نآوردہ ایم عادات را
نظم کردم سفرہ ہفت سین ہر سادات را

سین اول "سیدم مولا رضا" در ماتمه
سین دوم شد "سلام" بر نور چشم فاطمه

سین سوم "سیلی" یک دشمن آل نبی
بر روی ماہ امام ہفتم از آل علی

سین چہارم "سختی" زندان ہارون الرشید
آہ صدھا غم در آن زندان بر مولا رسید

سین پنجم، "سوزش قلب" شہ غمدیدہ است
سین ششم، "سجن" سندی ابن شاھک دیدہ است

سین ہفتم، "سینه"ی مجروح فرزند رسول
در غم کاظم عزادار است زهرای بتول

اول شب دست جمعی نوحه ی گل خواندیم
بهر دفع هر بلا ذکر توسل خواندیم

اول نوروز ما مصروف ماتم بودہ ایم
ما گرفتار ہمین "چند سین" در غم بودہ ایم

اطهر شیرین سخن مرثیه خوان کاظم است
در کنار مرقد آرام جان کاظم است

سید سجاداطهرموسوی
اول فروردین۱۳۹۹شمسی


موضوعات مرتبط: آوای انتظار

تاريخ : دوشنبه هجدهم فروردین 1399 | 20:29 | نویسنده : سيد سجاد اطهر موسوي تبتي | نظر Comment

ھفتسین 97

هفتسین نود و هفت

ای بهار امسال ھم با گریه و غم آمدی
با غم هادی علی با اشک و ماتم آمدی

باز ھم نوروز بوی خون حیدر میدھد
باز ھم ھفت سین  معنای دیگر میدھد

سین اول "سامرا" و ماتم سبطِ رسول
سین دوم "سروِ بستانِ" چمن زارِ بتول

سین سوم "سینه مسموم" آن شاه هدی
سین چارم "سمّ سوزان" و وجود باصفا

سین پنجم را شمارم "سوزش" قلب و جگر
مثل آقا مجتبی شد حال ھادی ، مختصر

سین ششم بانوی گریاں کنار گوہرش
مادر آقا "سمانہ" بود بشکل خواھرش

سین ھفتم را بگویم در غم ہجر امام
عاشقان با اشک میگویند ای آقا "سلام"

فاطمہ در سامرہ ہستد گریان و حزین
پس بگویم سامرا شد قطعہ خلد برین

اولین هفت سین غم در ماتم مادر نوشت
دومینش را قلم با نام این اختر نوشت

آمده  نوروز  اما مومنان غمگین شدہ
قلب اطهر غرق ماتم در ھمین هفت سین شدہ

سیدسجاداطہرموسوی
۲رجب ۲۹اسفند۱۳۹۶ش


موضوعات مرتبط: آوای انتظار

تاريخ : دوشنبه هجدهم فروردین 1399 | 20:27 | نویسنده : سيد سجاد اطهر موسوي تبتي | نظر Comment

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الہم عجل لولیک الفرج

تمام دوستوں کو اطلاع دی جاتی ہے کہ آیندہ اسی وبلاگ پر ہماری ملاقات مہدویت کے موضوع پر ہوتی رہے گی ، اگر کسی کے ذھن میں کوئی بھی سوال اس موضوع کے حوالے سے ہو تو اسی پوسٹ پر کمنٹ کرسکتے ہیں، تا کہ ہم اس کا جواب آپ کی خدمت میں پیش کرسکے، اور ان شاءاللہ ہماری پوری کوشش رہے گی آپ کو مختلف موضوعات سے آشنائی کے لئے آپ کی خدمت میں حاضر رہیں 

والسلام

سید سجاداطہرموسوی

مدیر انتظار نور فاونڈیشن بلتستان


موضوعات مرتبط: متفرقات

تاريخ : دوشنبه هجدهم فروردین 1399 | 20:17 | نویسنده : سيد سجاد اطهر موسوي تبتي | نظر Comment
سیدسجاداطهر موسوی: غزل ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے  تمھیں کہو کہ یہ اندازِ گفتگو کیا ہے  نہ شعلے میں یہ کرشمہ نہ برق میں یہ ادا  کوئی بتاؤ کہ وہ شوخِ تند خو کیا ہے  یہ رشک ہے کہ وہ ہوتا ہے ہم سخن تم سے  وگرنہ خوفِ بد آموزیٔ عدو کیا ہے  چپک رہا ہے بدن پر لہو سے پیراہن  ہمارے جیب کو اب حاجتِ رفو کیا ہے  جلا ہے جسم جہاں، دل بھی جل گیا ہوگا  کریدتے ہو جو اب راکھ جستجو کیا ہے  رگوں میں دوڑتے پھرنے کے ہم نہیں قائل  جب آنکھ سے ہی نہ ٹپکا تو پھر لہو کیا ہے  وہ چیز جس کے لیے ہم کو ہو بہشت عزیز  سوائے بادۂ گل فامِ مشک بو کیا ہے  پیوں شراب اگر خم بھی دیکھ لوں دو چار  یہ شیشہ و قدح و کوزہ و سبو کیا ہے  رہی نہ طاقتِ گفتار اور اگر ہو بھی  تو کس امید پہ کہیے کہ آرزو کیا ہے  ہوا ہے شہ کا مصاحب پھرے ہے اتراتا  وگرنہ شہر میں غالبؔ کی آبرو کیا ہے (مرزا اسداللہ خان غالب) اھل ادب کی خدمت میں سلام صبحگاہی و صبح بخیر
موضوعات مرتبط: عمومی مطالب

تاريخ : شنبه بیست و نهم مهر 1396 | 5:33 | نویسنده : سيد سجاد اطهر موسوي تبتي | نظر Comment
.: Weblog Themes By RoozGozar.com :.