تمام مومنین ومومنات اور ولی امر مسلمین حضرت امام خامنہ ای ودیگر آیات عظام ، پیشگاہ حضرت ثامن الحجج علی ابن موسی الرضا علیہ آلاف تحیۃ والثنائ اور امام عصر عجل اللہ فرجہ الشریف کی خدمت اقدس میں جواد الائمہ حضرت امام محمد تقی علیہ السلام کی ولادت باسعادت کی مناسبت سے ہدیہ تبریک وتہنیت عرض کرتا ہوں


موضوعات مرتبط: متفرقات

تاريخ : دوشنبه سی ام اردیبهشت 1392 | 22:51 | نویسنده : سيد سجاد اطهر موسوي تبتي | نظر Comment

نتیجه:

پس ان باتوں کا نتیجه یه هے که :

          مؤمن اور حقیقی شیعه ومددگار کی کمی هے جس کی وجه سے امام زمان علیه السلام بھی آج تک پردهٔ غیبت میں بسر کررهے هیں تاکه ان کے لئے مناسب مددگار آماده هوجائیں اور ظهور کے لئے زمینه سازی هوجائے ، یعنی امام کو تین سو تیره ایسے افراد کی ضرورت هے جو هارون مکی کی طرح امام کے هر امر پر لبیک کهنے والے هوں۔

لهٰذا همیں چاهئے که اپنے زمانے کے امام کی نصرت ویاری کے لئے صدق دل سے تیار هوجائیں اور اپنے اندر ایسے صفات پیدا کریں جس سے مزیّن هوکر هم حقیقی شیعه ومومن بن جائے اور جب تک هم ان صفات سے (جو قرآن کی آیت میں ذکر هوگئیں) مزین نهیں هونگے تب تک امام زمان علیه السلام کی خدمت اور دیدار کے قابل نهیں هوسکتے ۔

          امام زمان علیه السلام ظهور اور قیام کے لئے آماده هیں لیکن ابھی تک انسانوں کا جامعه اور یه دنیا اس قابل نهیں هوئی هیں که امام علیه السلام قیام فرمائیں اگرچه ظلم وجور سے دنیا بھری هوئٰی هے لیکن مقابل میں اچھے انسانوں کا وجود بھی تو ضروری هے ۔امام علیه السلام خود اس انتظار میں هے که کچھ ایسے اهل ایمان ان کو مل جائیں جو دل کی گهرائیوں سے اپنا سب کچھ امام کے قدموں میں قربان کرنےسے دریغ نه کرنےوالے هوں اور انکی طرف دست بیعت دیکر انکی رکاب میں اپنی جان کی قربانی دینے کے لئے اعلان کرنےوالے هوں۔


موضوعات مرتبط: مہم ترین عامل ظہور

تاريخ : یکشنبه بیست و نهم اردیبهشت 1392 | 17:43 | نویسنده : سيد سجاد اطهر موسوي تبتي | 1نظر Comment

سیرت امام جعفر صادق علیہ السلام

 

مقام اول:

امام صادق علیه السلام کو جب سدیر صیرفی نے عرض کیا : مولا! آپ ایسے نهیں بیٹھنا چاهئے بلکه آپ پر قیام واجب هے تو آپ نے وهاں موجود میمنوں(بکری کے بچے)کی ایک ریوڑ کی طرف اشاره کرتے هوئے فرمایا:" والله یاسدیر لوکان لی شیعة بعدد ھذه الجداء ماوسعنی القعود" اے سیدیر! خدا کی قسم اگر همارے شیعوں کی تعداد ان میمنوں کے برابر هوتی تو خانه نیشینی میرے لئے جائز نهیں تھا، سدیر کهتاهے میں نے نماز کے بعد جب ان میمنوں کی تعداد معلوم کرنے کے لئے انکی گنتی کی تو انکی تعداد ۱۷ تھی[1] ۔

 


[1] اصول کافی ،کتاب الایمان والکفر،باب ۱۰۰ ح

 

 


موضوعات مرتبط: مہم ترین عامل ظہور

ادامه مطلب
تاريخ : یکشنبه بیست و نهم اردیبهشت 1392 | 17:42 | نویسنده : سيد سجاد اطهر موسوي تبتي | نظر Comment

سیرت امام زین العابدین علیه السلام:

دوسری روایتوں میں دیکھیں تو امام سجاد علیه السلام یوں فرمارهے هیں:

جب عباد بصری نے آپ سے عرض کیا که: مولا ! آپ نے کیوں قیام اور جهاد کے بجائے حج کو اهمیت دی هے؟ تو آپ نے سوره توبه کی آیه نمبر ۱۱۲ کی طرف اشاره فرمایا جس میں ارشاد باری تعالٰی هے:" التائبون العابدون الحامدون السائحون الرّاکعون السّجدون الآمرون بالمعروف والناهون عن المنکر والحافظون لحدود الله وبشر المؤمنین" یعنی یه لوگ (اهل ایمان) توبه کرنے والے ،عبادت کرنے والے، حمد پروردگار بجالانے والے، راه خدا میں سفر کرنے والے، رکوع کرنے والے، سجده کرنے والے، نیکیوں کا حکم دینے والے، برائیوں سے روکنے والے اور الله کی حدود (قوانین) کی حفاظت کرنے والے هیں اور (اے پیغمبر) آپ انهیں(مؤمنوں کو) جنت کی بشارت دیدیں"

اس آیت شریفه کی طرف اشاره فرمانے کے بعد آپ نے ارشاد فرمایا: " اگر هم ان خصوصیات سے مزین دوستوں کو پائیں تو ان کے ساتھ ملکر جهاد کرنا حج سے زیاده فضیلت رکھتا هے"[1]۔



[1] فروع کافی کتاب الجهاد


موضوعات مرتبط: مہم ترین عامل ظہور

تاريخ : یکشنبه بیست و نهم اردیبهشت 1392 | 17:39 | نویسنده : سيد سجاد اطهر موسوي تبتي | نظر Comment

تبصره:

          یعنی ائمه علیهم السلام کے قیام کے لئے قوی انگیزه اور محکم اراده والے انسانوں کی ضرورت هے جو آپس میں هم فکر اور هم دل هوں اور الله تعالٰی کے عهد وپیمان پر پورا اترنے کے لئے سیسه پلائی هوئی دیوار کی مانند ڈٹے رهنے والے هوں اس صورت میں قیام الٰهی بدست ائمه علیهم السلام وقوع پذیر هوسکتا هے ۔

          وگرنه امام ان لوگوں پر کیسے بھروسه کرے جو احد کے مجاهدین کی طرح رسول کو تنها چھوڑ کر بھاگ جانے والے هوں اور اپنے حقیقی رهنما کی جان کی پرواه کئے بغیر مال دنیا کے لالچ میں پڑنے والے هوں اگر اس طرح کا انگیزه رکھنے والوں کی موجودگی میں امام علیه السلام ان کے ساتھ قیام کریں گے تو اگر انکو دشمن کی طرف سے مال دنیا کی لالچ دلائی جائے تو وه لوگ امام کو چھوڑ کر انکی طرف چلے جائیں گے ۔ اور اس طرح هونے کی صورت میں امام علیه السلام کی جان خطرے میں پڑھ جائیں گے تو پھر اس قیام کا کوئی فائده نهیں رهے گا۔

لهٰذا امام علیه السلام کے قیام کے لئے ضروری تھا که ایسے انسانوں کی آمادگی اور بیعت ان کے هاتھوں پر هوجائے جو امام کو هرگز تنها نه رکھنے والے هوں اور خون کے آخری قطرے تک الله کی راه میں قربان کرنے سے دریغ نه کرنے والے هوں ۔


موضوعات مرتبط: مہم ترین عامل ظہور

تاريخ : یکشنبه بیست و نهم اردیبهشت 1392 | 17:38 | نویسنده : سيد سجاد اطهر موسوي تبتي | نظر Comment

دقّت کریں !

 امام علیه السلام فرماتے هیں که : اگر لوگوں کی جمعیت همراه نه هوتی تو میں اپنی خانه نشینی کی زندگی اور حاکمیت کے اس دربار سے غائب رهنے کو اهمیت دیتے ۔ یعنی لوگوں کی بیعت اور خواهش امام علی علیه السلام کے قیام اور قبول خلافت کے وجوهات میں سے ایک اهم پهلو هے(جبکه عهد وپیمان الٰهی همیشه انکے قدم به قدم همراه هے پس عهد الٰهی کو قبول کرنے کے لئے لوگوں کی بیعت اور آمادگی بھی لازمی هے جب تک یارو مددگار نه هو امام تنها الله تعالٰی کے ساتھ کئے هوئے وعدے کو نبھا نهیں سکیں گے مگر اینکه الله تعالٰی کا خصوصی امداد اور معجزه کے ذریعے )۔


موضوعات مرتبط: مہم ترین عامل ظہور

تاريخ : یکشنبه بیست و نهم اردیبهشت 1392 | 17:37 | نویسنده : سيد سجاد اطهر موسوي تبتي | نظر Comment

مقام سوم:

          اسی طرح امام علیه السلام دوسری حدیث میں فرماتے هیں: " اگر مجھے قوی اراده رکھنے والا چالیس آدمی مل جاتے تو میں ضروراس (غاصب) قوم کے ساتھ جنگ کرتا[1] "



[1] بحار ج۲۸ ص۳۱۳


موضوعات مرتبط: مہم ترین عامل ظہور

تاريخ : یکشنبه بیست و نهم اردیبهشت 1392 | 17:37 | نویسنده : سيد سجاد اطهر موسوي تبتي | نظر Comment

مقام دوم:

اسی طرح ۲۵سال خانه نشینی کے بعد جب لوگ آپ کے دروازے پر آئے اور آپ کی حاکمیت کے لئے آمادگی کا اعلان کیا تو آپ نے جب قتل عثمان کے بعد خلافت کے لباس کو اپنے بدن زیبا کی خوشبو سے معطر کردیا تو آپ نے اس کی وجه لوگوں کی خواهش اور انکے هجوم آوری اور آمادگئی بیعت کو قرار دیا اور فرمایا: "اما والذی فلق الحبّ وبرأ النسمة ، لولا حضور الحاضر ، وقیام الحجة بوجود الناصر، وما اخذ الله علی العلماء الا یقارّوا علیٰ کظة ظالم ولا سغب مظلوم لالقیت حبلها علی غاربها، ولسقیت آخرها بکأس اولها ولالفیتم دنیا کم هٰذه ازهد عندی من عفطة عنز[1]" یعنی اس خدا کی قسم جس نے دانوں کو شگافته فرمایا اور زندگی کو خلق فرمایا ، اگر میری بیعت کرنے والوں کی بھیڑ اور ھجوم نه هوتے اور دوستوں نے مجھ پر نصرت کی حجّت تمام نه کی هوتی اور الله تعالیٰ نے علماء سے شکم پرستوں کی پُرخوری اور مظلوموں کی بھوک کی حالت میں رهنے کے وقت خاموش نه رهنے کا وعده نه لیا هوتا تو میں اس خلافت کی رسی کو اس کے اپنے کوهان پر پھینک کر ھنکا دیتا۔



[1] نهج البلاغه خطبه ۳ شقشقیه


موضوعات مرتبط: مہم ترین عامل ظہور

تاريخ : یکشنبه بیست و نهم اردیبهشت 1392 | 17:35 | نویسنده : سيد سجاد اطهر موسوي تبتي | نظر Comment

سیرت امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام


مقام اولّ:

          جب رسول گرامی اسلام رحلت فرماگئے اور جریان ثقیفه تمام هوگیا یعنی (حضرت زهرا سے فدک اور علی سے خلافت چھینی گئی) تو امیر مؤمنان مولای متقیان حضرت علی ابن ابی طالب علیه افضل الثناء والسلام تین راتوں تک بنت رسول حضرت فاطمه زهرا ،سبطین امام حسن اور امام حسین علیهم السلام کو لئے جنگ بدر میں شرکت کرنے والے اصحاب کے دروازوں پر دستک دیتے هوئے انکو اھلیبت علیهم السلام کے حق کے بارے میں یاد آوری کرکے اپنی مدد کے لئے پکارتے رهے مگر صبح هوتی تھی تو چار نفر (سلمان، اباذر، مقداد،عمار)کے علاوه کوئی بھی حضرت کے حق میں گواهی دینے کے لئے نهیں آئے۔

 اور جب آپ علیه السلام نے انکی بے وفائی اور عهد شکنی کا مشاهده کیا توآپ نے خانه نشینی اختیار فرمایااور قرآن کی جمع آوری شروع کیا[1]۔

 


موضوعات مرتبط: مہم ترین عامل ظہور

تاريخ : یکشنبه بیست و نهم اردیبهشت 1392 | 17:35 | نویسنده : سيد سجاد اطهر موسوي تبتي | نظر Comment

سیرت ائمه واستدلال بر مدعیٰ:

هم اپنے اس مدعیٰ کو ثابت کرنے کے چند ایسی باتین بیان کریں گے  جو اهلبیت علیهم السام کی سیرت سے تعلق رکھتی هین اور همارے اس بات کی دلیل هیں۔

پهلے ایک بار پھر امام علیه السلام کے توقیع شریف کے مورد بحث نکات و دھرائیں گے ۔

          امام علیه السلام نے یوں بیان فرمایا هے که" ولو انّ اشیاعنا ……علی اجتماع من القلوب فی الوفاء بالعهد علیهم" یعنی همار شیعے اگر انکے ذمے پر موجود وعده کو نبھانے کے لئے همدل هوجائے (یعنی ایک هوجائے اور متحد هوجائے) تو وه لوگ هرگز همارے ساتھ ملاقات کرنے سے محروم نهیں رهیں گے اور میری دیدار انهیں بهت جلد نصیب هوجائیں گے۔

          اس سے مراد یه هے که هم امام علیه السلام کے حقیقی دوستدار بن جائیں جب تک هم از تهه دل دن کی اطاعت کے قابل نه هوجائیں تب تک هم انکی نصرت کے لائق نهیں اور جب تک امام علیه السلام کے لئے مدد کرنے والے اور انکے فرمان پر جان دینے والے افراد تیار نهیں هونگے تب تک وه ظهور نهیں فرمائیں گے۔


موضوعات مرتبط: مہم ترین عامل ظہور

تاريخ : یکشنبه بیست و نهم اردیبهشت 1392 | 17:33 | نویسنده : سيد سجاد اطهر موسوي تبتي | نظر Comment

اے کاش.................

 

اے میرے مولا وآقا!

    اے کاش میرا نام عبدالمہدی رکھا ہوتا !

    اے کاش میرے والدگرامی نے میری تولد کے ساتھ کانوں میں اذان عشق کے ساتھ تیرا نام بھی زمزمہ کیا ہوتا!   

    اے کاش ماں نے مجھے بات کرنا سکھارہی تھی تو سب سے پہلے تیرا نام سکھاےا اور زبان پر جاری کراےا ہوتا!

    اے کاش جب سے مجھ میں قوّت تکلم آئی اسی وقت سے میرے بھائی اور دیگر رشتہ داروں نے مجھے یا مہدی (ع) کہنے کی عادت دلائے ہوتے۔

    اگرچہ آج میرا جو تجھ سے عشق ومعرفت کا بندھن بندھا ہے یہ میرے والد اور والدہ کی پاکیزگی اور تجھ سے محبت کی دلیل ہے اور طہار ت نسل اس وقت تک ممکن نہیںجب تک تیرے آباء واجداداور تیری محبت ماں باپ کے دلوں میں پاےا نہ جائے ۔ اور آج میری فکر تیری محبت کی بلندیوں کی طرف پرواز کررہی ہے اس میں کلیدی کردارمیرے والدین کی نیک تربیت اور میرے برادر بزرگوار کی طرف سے پانے والی فکری تربیت (یعنی فضل وعطاء خداوندی) کا ہے۔

    اے کاش میرے سکول کی ابتدائی کتابوں میں تجھ سے آشنائی کا سبق پڑحا ہوتا!

    اے کاش میرپرائمی سکول کی پہلی کلاس میں مجھے تیری محبت کا تعلیم اور تیرے متعلق داستانوں کی کتابیںپڑھائی گئی ہوتی!

    اے کاش میرے اساتیذ نے میرے ہاتھوں میں قلم تھماکر بسم اللہ کے بعد تیرا نام لکھنے کی تربیت دی ہوتی!

    اے کاش میرے ہوم ورک تجھ سے متعلق دعائیں اور احادیث کو یاد کرنا ہوتا!

    اے کاش خوشخطی سکھاتے ہوئے تیرے نام اور القاب کو لکھنے کی عادت کروائی ہوتی !

    اے کاش املاء نویسی میں تیرے معجزات کی داستانیں لکھوائی گئی ہوتی!

         پرائمی سکول کے دورانئیے میں کسی نے مجھے تیری محبت اور معرفت کی وادی کی سر سبز وشاداب فضا سے آشنا نہیں کیا اور ان اےام میں میں صرف یہی جانتا تھا کہ میرا امام بارہ ہیں اور آخری امام (حضرت مہدی(ع)) آج بھی زندہ ہے اور لوگوں کی نگاہوں سے مصلحت الٰہی کی وجہ سے غائب ہیں۔ اور اسی حد تک میرے خاندان والوں، مامووں، تاےا جان اور والدین نے مجھے بتاےا تھا۔

    اے کاش جب میں کسی حد تک بزرگ ہوا اور لڑکپن کی زندگی میں قدم رکھا تومڈل کلاسز کے وقت کسی نے مجھے بزم ادب میں تیرے نام پر قصیدہ پڑھنے کو کہا ہوتا جبکہ مجھ سے ملی نغمے پڑھوائے گئے۔

    اے کاش محفل ادب میں تیرے مقدس وجود کے حضور میں بجالانے والے آداب واحترام سے مجھے آگاہ کیا ہوتا!   

    اے کاش کسی نے مجھے تاریخ کی کتابوں کی جگہ تیری غیبت اور غربت وتنہائی کی تاریخ سے آگاہ نہیں کیا !

    جب بھی اساتیذ میرے کان انگریزی کے مضامین یاد کرنے کی تاکید کرتے تھے اس وقت کبھی میرا کان پکڑ کر تیری یاد کرنے کی تلقین نہیں کی !

    اے کاش سکول اسمبلی میں دعا پڑھنے کے ساتھ تیرے ظہور اور سلامتی کے لئے دعا کرنا بھی سکھا یا ہوتا!

    اے کاش ریاضی اور انگلش کی امتحان کے بجائے مجھ سے تیری محبت اور معرفت کا پرچہ لیا ہوتا !

    اے کاش ڈرائنگ کے کلاس میں سیب اور درخت کی بجائے تیرے مہربان اور محبت بھرے چہرے کی نقاشی کرائی گئی ہوتی!

        نہیں معلوم ،' مضمون نویسی' میں 'علم بہتر ہے یا مال ' پر مضمون لکھوانے کے بجائے مجھے آپ اور آپ کی غیبت ، آپ اور آپ کے ظہور اور آپ اور آپ کی رضاےت جلب کرنے کے طریقوں اور زمان غیبت میںامت کی ذمہ داریوں پر مضمون کیوں نہیں لکھوائے گئے۔

    جبکہ حقیقی نگاہ سے دیکھیں تو:

        تیرے بغیر نہ علم بہتر ہے نہ مال

                نہ زندگی بہتر ہے نہ موت

                        نہ روشنی بہتر ہے نہ اندھیرا

        کیونکہ

            علم     روشنی ہے    اور     زندگی کا مزہ ولطف اس وقت ہے جب :

                                             تیری معرفت علم میں شامل ہو

                                             تیرا چراغ روشنی میں شامل ہو

                                             اور

                                             تیری محبت زندگی میں شامل ہو

                                              اور بدن اللہ کی عبادت کے لئے مصروف عمل ہوجائے

                      جی ہاں!

                               تیرے بغیر کسی بھی چیز کا لطف نہیں

                              اور اگر تو ہو تو کسی بھی چیز کی ضرورت نہیں

                           

                                                                   مشہدمقدس

                                                              ١٢ ذی القعدہ ١٤٣١ ہجری


موضوعات مرتبط: معرفت امام عصر (عج)

تاريخ : یکشنبه بیست و نهم اردیبهشت 1392 | 17:24 | نویسنده : سيد سجاد اطهر موسوي تبتي | نظر Comment

شایدہم اپنے نبی اکرم حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی میں پڑھتے ہیں کہ:

    عرب کا اےک بادیہ نشین رسول گرامی اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حضور میں اپنے نحس پاؤں کو درا کرتا تھا اور اپنے مدتوں سے نہ دھوئے ہوئے پاؤں کے انگشت سے پیغمبر اسلام صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مبارک کانوں کے لُوسے کھیلتا تھا اور بے ادبانہ طور پر کہتا تھا : اے محمد ؐ !ہمیں کوئی ایسی کہانی سناوجو ہمارے لئے بہت زیادہ تعجب آور ہو۔

    جب بات یہاں پر آتی ہے تو تمام مسلمانوں کے خون رگوں میں گھولنے لگتا ہے ، کیوں؟ اسلئے کہ اس بے ادب نے ہمارے عشق ، اےمان، عقیدہ ، محبت ، زندگی یعنی رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مزاق کیا۔ کیونکہ رسول ہماری جان،ہمارا اےمان، ہمارا عشق ہے ۔ خلاصہ یہ کہ رسول گرامی اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں ہمارا عقیدہ یہی ہے کہ'بعد از خدا بزرگ توئی قصّہ مختصر' یعنی ہمارے نبی ہمارا سب کچھ ہے اور ان کے بنا ہمارے پاس کچھ بھی نہیں۔

    ہاں مگر انصاف سے فیصلہ کریں!

    کیا ہمارے زمانے کا امام (ع) ہمارے نبی ؐ کا جانشین نہیںہے ؟ کیا امام زمان اسی رسول ؐکا فرزند نہیں ہے ؟ کیا خود نبی اکرم ؐ نے نہیں فرماےا؟' المہدی منی من ولد فاطمہ ' یعنی مہدی (ع) میرا فرزندہے اور میری بیٹی فاطمہ (ع) کی اولاد ہے۔کیا رسول کا فرمان نہیں ہے ؟ انی تارک فیکم الثقلین کتاب اللہ وعترتی اہل بیتی ما ان تمسّکتم بہما لن تضلوا بعدی ابدا'یعنی میںتمہارے درمیان د و گرانبہا چیزیں چھوڑ کر جارہا ہوں جو ان دونوں سے متمسّک رہے تومیرے بعد ہر گز گمراہ نہیں ہوگا 'کتاب اللہ وعترتی اہل بیتی' وہ دوچیزیں اللہ کی کتاب(قرآن پاک) اور میری عترت ہیں۔اور قرآن نے اجر رسالت کے بارے میں اعلان فرماےا :

    میرے حبیب (قُل) کہدو 'لااسئلکم علیہ اجرا الا المودّۃ فی القربیٰ' میں اجر رسالت میں کچھ نہیں چاہتا سوائے میرے قرابت داروں کی مودّت ومحبت کے۔ تو بتائیے!

            کیا امام زمان(مہدی) علیہ السلام ثقلین میں سے اےک اور قربیٰ کا مصداق نہیں ہے ؟؟

    چونکہ آج دنیا میں قرآن کے ساتھ جوثقل اصغر موجود ہے وہ وجود مقدس حضرت مہدی علیہ السلام ہیںاسی لئے ہم امام کو سلام دیتے ہوئے کہتے ہیں

                السلام علیک یا شریک القرآن !

    اب بتائیں کہ !!

        ہم کہاں تک اپنے رسول کے جانشین امام زمان علیہ السلام کے حضور مقدس میں آداب کی رعاےت کرتے ہیں؟ کیا ہم ان کے حضور مقدس میں بجا لانے والے آداب سے واقف ہیں؟اگر ہیں تو کیا اسکی رعاےت بھی کرتے ہیں ؟

    جرأت کے ساتھ اور یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ :

        امام علیہ السلام ک ظہور کے موانع میںسے اےک اور شاےد امام علیہ السلام کے ظہور پر نور کے لئے مہم ترین مانع یہی ہے کہ لوگوں نے ابھی تک انکے محضر مبارک میں بجا لانے والے آداب کو نہیں سیکھا ہے اور ابھی تک انکے وجود مبارک کا احترام نہیں ہورہا ہے۔

    اور اس مقدّس ہستی کے حضور میں احترام بجا لانے کا بہترین طریقہ تمام واجب امور کو بجا لا نا اور تمام حرام امور کو ترک کرنا ہے ۔

        آج سے ہی اس نکتے پر عمل کرنے کا آغاز کریں اور پھر اپنے مولا کر پُکار کر دیکھیں !!!

 

                                        مشہد مقدس

                                    ٢٠ ذی القعدہ ١٤٣١ ہجری


موضوعات مرتبط: معرفت امام عصر (عج)

تاريخ : یکشنبه بیست و نهم اردیبهشت 1392 | 17:24 | نویسنده : سيد سجاد اطهر موسوي تبتي | نظر Comment

ہمیشہ جب بھی ہم کلمہ مظلومیت کو سنتے ہیں تو خود بخود ذہن میں یہ بات آجاتی ہے کہ ایک طرف ظالم ہے اور ایک طرف مظلوم اوربھیج میں مظلوم کا کوئی حق پائمال ہوا ہے ۔ اور جونہی ہم مظلومیت کے لفظ کو سنتے ہیں تونا آگاھانہ فکر انسان میں ظالم سے نفرت وانزجار اور مظلوم کی حمایت وہمدردی کی فضا قائم ہوجاتی ہے اسی طرح خود بخود انسا ظالم سے بیزار اور مظلوم کا حامی بن کر سانس لینے لگتا ہے ۔

    بُرائی یہ ہے کہ: انسان اس طرح کے قضیوں اور واقعات کو سن کر ظالم ومظلوم دونوں کے بارے میں کوئی فکر نہ کرے اور مظلوم کی حمایت پر اُتر نہ آئے۔

    اور اس سے بدتر یہ ہے کہ انسان ہر وقت اپنی فکر، اپنی زندگی اور عزّت کی حاطر اس حد تک سر گرم عمل ہوجائے کہ وہ کسی مظلوم کی فریاد کو نہ سنے اور اگر سنے بھی تو اس کی طرف کوئی توجہ نہ دے۔رسول اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فرمان ' من سمع رجلا ینادی یاللمسلمین ولم یجبہ فلیس بمسلم' کے مطابق وہ دائرہ مسلمانیت سے خارج ہوجاتا ہے ۔ بلکہ دائرہ انسانیت سے خارج ہوجاتا ہے کیونکہ مظلوم اور غریب ونادار فریاد زدہ افراد کی حمایت وامداد انسان کی فطرت میں شامل ہے ۔جب کوئی شخص اپنی فطرت کے تقاضا کو پورا نہیں کرتا وہ انسانیت کے زمرے سے باہر ہوجاتا ہے۔

    اور اس سے بھی بدتر اور ناشایستہ ونالایق تر وہ انسان ہے جو اپنے زمانے کے امام(ع) کی مظلومیت کی فریاد کو سنے تو صرف جواب نہ دینا ہی نہیں بلکہ خود بھی اس مظلوم امام (ع) کے مظلومیت کو بڑھانے والے افراد میں سے ایک ہوکر امام (ع) کی مظلومیت کے اسباب انجام دے۔

    ہمارے اس مونس وغمخواراور ہزار باپ سے بھی زیادہ شفیق ومہربان امام (ع) کی نسبت ہماری بے توجہی سبب بنی ہوئی ہے کہ ہمارا امام (ع) ہمارے درمیان غریب ،اجنبی اور مظلوم قرار پائے۔

    ان اسباب میں سے ایک اہم سبب یہی ہے کہ ہم ان کی نسبت یہ فکر کرتے ہیں کہ وہ غیبت کے پردے میں ہے ۔

جبکہ امام صادق (ع) فرماتے ہیں وہ لوگوں کے درمیان زندگی کریں گے اور حج کے موسم میں حجاج کے درمیان ہونگے ، ایک اور حدیث میں فرماتے ہیں کہ 'وہ(مہدی(ع)) لوگوں کے درمیان ہونگے انکے بازاروں میں ٹہل رہے ہونگے اور انکے مجلسوں میں حاضر ہونگے لیکن وہ اسے نہیں پہچانیں گے'۔

    اب بتائیے : پردے میں ہم ہیں یا وہ(امام زمان(ع))؟ سیدھی سی بات ہے کہ پردے میں ہم ہیں ہمارے بدکرداریاں ، بد اعمالیاںبد گفتاریاں پردے کی مانند ہمیں ڈھانپ کر محبوس کئے ہوئے ہیں ،تو             وہ تو امت کی خبر لیتے ہیں ہر گھر ہر گھڑی

                    وہ نہیں پردے میں لوگو! ہم یہاں پردے میں

    اگر ہم حد اقل اپنے جاننے والوں ، دوستوں اور رشتہ داروں کی دیدار اور ملاقات کے لئے وقت دے سکتے ہیں تو کیا کبھی سوچا بھی ہے کہ :

                اپنے امام (ع) کی ملاقات اور دیدار وزیارت کے لئے بھی اقدام کرے؟

    اگر ہفتے میں ہر روز حد اقل ایک ایک گھنٹے بے ہودہ وقت گزار تے ہیں اور ٹیلویژن دیکھنے اور غیر مفید باتوں میں اپنے اوقات کو گنوا رہے ہیں تو :

        کیا پورے ہفتے میں صرف سات(٧) منٹ اپنے امام زمان کی شناخت اور معرفت کے حصول کے لئے بھی وقت گزارا ہے؟؟؟

    کیا ہمیں اپنے امام کی کوئی فکر ہے ؟         اگر نہیں ہے تو کیوں...........؟؟؟؟

 

                                                                             یا مہدی العجل


موضوعات مرتبط: معرفت امام عصر (عج)

تاريخ : یکشنبه بیست و نهم اردیبهشت 1392 | 17:23 | نویسنده : سيد سجاد اطهر موسوي تبتي | نظر Comment

یقین جانئے کہ:

    امام معصوم علیہ السلام کی دعا جس کے بارے میں بھی ہو اللہ کے حضور میں قبول واجابت کا مقام رکھتی ہے ۔

        بعض منابع حدیث میں اس طرح رواےات آئی ہیں کہ ہمارے ائمہ علیہم السلام میں سے کسی نے یا رسول گرامی اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی شخص کے بارے میں اللہ سے دعا مانگی کہ اس موردنظر شخص کو اپنی رحمت کے سائے میں قرار دے یا اولاد عناےت کرے یا مال ودولت دے یا حاجتیں جو بھی ہو پوری فرمائے ، تو یہ کتنی بڑی سعادت کی بات ہے !

    مگر شاےد یہ دعائیں ، اسی مورد کے اصطلاح کے تحت، اسی موضوع ، اسی شخص اور اسی موقع کے ساتھ مخصوص ہو۔

        مگر میں کسی اےسی دعا سے آشنا ہوں جو ہمیشہ اور ہر لحظہ انسان کی زندگی میں اللہ کی رحمتوں کو شامل حال کرتی ہے ۔اور اللہ کی خصوصی رحمت کا اور کیا کہنا؟!!

    جہاں تک امام رضا علیہ السلام فرماتے ہیں : رحم اللہ عبداً احیی ٰ امرنا ......... اللہ کی رحمت ہو اس شخص پر جو ہمارے امر کو زندہ کرے کسی نے کہا اے فرزند رسو ل آپ کے امر کو کیسے زندہ کیا جاسکتا ہے ؟ فرماےا ہمارے علوم کو حاصل کرے اور لوگوں کو اس کی تعلیم دے ۔ بتحقیق اگر لوگ ہمارے کلام کے حسن سے آگاہ ہوجائیںتو ہماری پیروی کریں گے۔

    امام رضا علیہ السلام کے علم وفضل وشرافت کو ملحوظ نظر رکھتے ہوئے اس دعا میں شامل ہونا چاہتے ہو تو

            فرھنگ مہدویت کی نشرواشاعت اور تبلیغ و تبیین کے لئے کوشش کریں تاکہ امام معصوم (ع)کی دعا تمہارا بھی شامل حال ہوسکے۔

            اور امام زمان علیہ السلام کی دعاؤں میں تمہارا بھی نام شامل ہوجائے جیسا کہ امام (عج) فرماتے ہیں:

                تو نے میری مدد کی میں تمہاری مدد کروں گا اور اللہ تعالےٰ اپنے یاوران کی یاری فرماتے ہیں۔


موضوعات مرتبط: معرفت امام عصر (عج)

تاريخ : یکشنبه بیست و نهم اردیبهشت 1392 | 17:22 | نویسنده : سيد سجاد اطهر موسوي تبتي | نظر Comment

 

دیار عشق کی جانب نگاہ عشق لگی

اگر امام عصر صاحب الزمان اروحنالہ الفداء کی غربت کے تمام پہلو بیان ہوجائے تو شیعیان ومحبین اہلبیت (ع) کے دل زیادہ سے زیادہ ان کی طرف متوجہ ہوجائیں گے ۔ اوریہ وہی موقع ہوگا کہ اس وقت تمام شیعیان حیدر کرار (ع) مل کر اپنے امام (ع) کی غربت کو ان سے دور کرنے اور ان کی نصرت ویاری کے لئے تصمیم باندھیں گے۔

    (امام عصر (ع) سے آگاہی نہ رکھنا ، یا آنحضرت (ع) کی غربت کو باور(یقین) نہ کرنا ، یا آپ کی اس غربت سے غفلت برتناامام علیہ السلام کی غربت کی پہلی دلیل ہے )

   

    اے میرے آقا! اے میرے غریب مولا(ع)! اے میدان تنہائی کے مسافر!

    گویا سب کے سب ہاتھ میں ہاتھ دے کر اےک ہوگئے ہونگے تاکہ آپ کو اسی غربت میں رکھا جائے ، مگر ہم...............

چاہتا ہوں تیری طرف آجاؤں ۔ مجھے یقین ہے کہ میری گذشتہ زندگی کی غفلتوں سے آپ کریمانہ چشم پوشی فرمائیں گے ۔

    جانتا ہوں کہ: آپ میری توبہ کو قبول کرکے کھلے آغوش میں مجھے جگہ دیں گے۔

    جانتا ہوں کہ: جب تک میں آپ سے غافل تھا اس دوران میں بھی آپ میرے لئے دعا فرماتے تھے اور میری حالت یہ تھی کہ آپ سے غافل اور گریزان تھا مگر آپ اےک مہربان اور شفیق باپ سے بھی زیادہ مجھے ہر جگہ زیرنظر رکھتے تھے اور ہمیشہ مجھے اپنی محبتوں سے نواز تے تھے ۔ جس کے نتیجے میں میں سلامت اور آرام کی زندگی کررہا ہوں۔

    میرے آقا !

        مجھے بخش دیں ، مجھے معاف کریں ، اور مجھ سے در گزر فرمائیں ۔

    اے انسان اب یہ احساس رکھتے ہو تو:

        ندامت اور توبہ کے اشکوں سے آنکھوں کو صاف کر !    ان کے حضور کا احساس کروگے۔

        کانوں کو لہو الحدیث اور غیبت جیسی برائیوں سے دور کر!    ان کی آہٹ کا احساس کروگے۔

        ہاتھوں کو گناہوںاور شیطان کے زنجیروں سے آزاد کرکے پھیلاو!    انکی خیرات اور عطاؤں سے پُر پاؤگے۔

        ان کو دل کی گہرائیوں سے پکار و اور ان کے در کا سائل بن کردیکھو!     ان کی طرف سے ضرور جواب سنو گے۔

پس دیر کس بات کی ؟ ابھی ہی پکار کردیکھو! کہہ دو     السلام علیک یا مولانا یاصاحب العصر والزمان

                    السلام علیک یا شریک القرآن

                    السلام علیک یا امام الانس والجان

                    العجل العجل العجل ...........


موضوعات مرتبط: معرفت امام عصر (عج)

تاريخ : یکشنبه بیست و نهم اردیبهشت 1392 | 17:21 | نویسنده : سيد سجاد اطهر موسوي تبتي | نظر Comment
.: Weblog Themes By RoozGozar.com :.