3/9/2017 تقلید کیا ہے؟

( مجتھد کے فتوی پر عمل کرنے یا عمل کرنے کا ارادہ کرنے کو تقلید کہا جاتا ھے )

 

تقلید ، لغت میں کسی ھار کا گردن میں پہننے کو کہا جاتا ھے ؛ " هو تعلیق القلادة و نحوها فى العنق " اور اصطلاح میں متعدد معانی ذکر ھوئے ھیں ، ان میں سے بعض یہ ھے :

 

 1 ـ دوسرے کی بات پر عمل کرنا ؛ " العمل بقول الغیر " مثلا ڈاکٹر کہے کہ تمہیں فلان چیز سے پرہیز کرنا ھوگا، تو مریض اس چیز سے پرہیز کرتا ھے اسے تقلید کہا جاتا ھے ؛

 2 ـ کسی کے فتوی کو عمل کرنے کے قصد کیساتھ اخذ کرنا ؛ " الأخذ بفتوى الغیر للعمل به " ؛

 3 ـ دل سے اپنے آپ کو کسی کے فتوی پر عمل کرنے کے لئے تصمیم ( عزم و ارادہ ) گیری کرنا ،اگر چہ اس کے فتوی پر ابھی عمل نہ کیا ھو یا فتوی کا علم بھی حاصل نہ ھوا ھو؛  "الالتزام بالعمل بفتوى الغیر و ان لم یعمل بل و ان لم یأخذ ... ".

 "آخوند خراسانی" فرماتے ھیں: تقلید کسی دوسرے شخص کی رای کو اس سے دلیل اور تفصیل طلب کئے بغیر احکام اور فروع دین میں اس پر عمل کرنے کے ارادے سے اخذ کرنے کو کہا جاتا ھے. بنابراین ، اگر مکلف مجتھد کے توضیح المسائل سے آخر عمر تک استفادہ کرتے ھوئے اس کے مطابق عمل کرے تو تقلید تحقق پذیر ھوتئ ھے .

 بعض دیگر علماء جیسے مرحوم " صاحب معالم " فرماتے ھیں کہ تقلید مجتھد سے دلیل طلب کئے بغیر فتوی پر عمل کرنے کو کہا جاتا ھے؛لیکن تقلید فتوی پر عمل کرنے سے پہلے تحقق ھونی چاہئے تاکہ عمل کو اسی تقلید پر استناد کرکے بجالائے اور اگر عمل تقلید سے محقق ھو تو اس کا لازمہ یہ بنتا ھے کہ پہلا عمل تقلید کے بغیر انجام پایا ھے۔ 

 
کتاب  " عروة الوثقى " کے مطابق؛ تقلید دل سے اپنے آپ کو کسی مشخص مجتھد کے فتوی کے مطابق عمل کرنے کا پابند سمجھتے ھوئے ارادہ کرنے کو کہا جاتا ھے ، اگرچہ ابھی اس کے فتوی کے بارے میں علم حاصل نہ ھوا ھو یا اس کے فتوی کے مطابق ابھی کوئی عمل انجام نہ دیا ھو۔ اس بناء پر تقلید تحقق پانے کے لئے قلبی ارادہ کافی ھے۔


 بعض دوسرے علماء متاخرین کی رائے یہ ھے کہ: تقلید ، سے مراد مقام عمل میں مجتھد کی رای پر استناد کرنا ھے ۔


بناء بر این عوام الناس کے لئے مجتھد کی تقلید ضروری ھے کیونکہ؛
ھر شخص بطور اجمال یہ جانتا ھے کہ اس پر کوئی تکلیف ھے لیکن تکلیف کے بارے میں تفصیلی علم نہیں رکھتا لھذا اسے چاہئے کہ کسی ایسے شخص کی تقلید کرے جو احکام کو دلیل اور منابع اصلی سے جانتا ھو۔ 

والسلام علیکم ورحمة اللہ


موضوعات مرتبط: عمومی مطالب

تاريخ : جمعه بیستم اسفند 1395 | 6:56 | نویسنده : | نظر Comment


.: Weblog Themes By RoozGozar.com :.