سیدسجاداطهر موسوی: غزل ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے  تمھیں کہو کہ یہ اندازِ گفتگو کیا ہے  نہ شعلے میں یہ کرشمہ نہ برق میں یہ ادا  کوئی بتاؤ کہ وہ شوخِ تند خو کیا ہے  یہ رشک ہے کہ وہ ہوتا ہے ہم سخن تم سے  وگرنہ خوفِ بد آموزیٔ عدو کیا ہے  چپک رہا ہے بدن پر لہو سے پیراہن  ہمارے جیب کو اب حاجتِ رفو کیا ہے  جلا ہے جسم جہاں، دل بھی جل گیا ہوگا  کریدتے ہو جو اب راکھ جستجو کیا ہے  رگوں میں دوڑتے پھرنے کے ہم نہیں قائل  جب آنکھ سے ہی نہ ٹپکا تو پھر لہو کیا ہے  وہ چیز جس کے لیے ہم کو ہو بہشت عزیز  سوائے بادۂ گل فامِ مشک بو کیا ہے  پیوں شراب اگر خم بھی دیکھ لوں دو چار  یہ شیشہ و قدح و کوزہ و سبو کیا ہے  رہی نہ طاقتِ گفتار اور اگر ہو بھی  تو کس امید پہ کہیے کہ آرزو کیا ہے  ہوا ہے شہ کا مصاحب پھرے ہے اتراتا  وگرنہ شہر میں غالبؔ کی آبرو کیا ہے (مرزا اسداللہ خان غالب) اھل ادب کی خدمت میں سلام صبحگاہی و صبح بخیر
موضوعات مرتبط: عمومی مطالب

تاريخ : شنبه بیست و نهم مهر 1396 | 5:33 | نویسنده : سيد سجاد اطهر موسوي تبتي | نظر Comment


.: Weblog Themes By RoozGozar.com :.