تبصره:

          یعنی ائمه علیهم السلام کے قیام کے لئے قوی انگیزه اور محکم اراده والے انسانوں کی ضرورت هے جو آپس میں هم فکر اور هم دل هوں اور الله تعالٰی کے عهد وپیمان پر پورا اترنے کے لئے سیسه پلائی هوئی دیوار کی مانند ڈٹے رهنے والے هوں اس صورت میں قیام الٰهی بدست ائمه علیهم السلام وقوع پذیر هوسکتا هے ۔

          وگرنه امام ان لوگوں پر کیسے بھروسه کرے جو احد کے مجاهدین کی طرح رسول کو تنها چھوڑ کر بھاگ جانے والے هوں اور اپنے حقیقی رهنما کی جان کی پرواه کئے بغیر مال دنیا کے لالچ میں پڑنے والے هوں اگر اس طرح کا انگیزه رکھنے والوں کی موجودگی میں امام علیه السلام ان کے ساتھ قیام کریں گے تو اگر انکو دشمن کی طرف سے مال دنیا کی لالچ دلائی جائے تو وه لوگ امام کو چھوڑ کر انکی طرف چلے جائیں گے ۔ اور اس طرح هونے کی صورت میں امام علیه السلام کی جان خطرے میں پڑھ جائیں گے تو پھر اس قیام کا کوئی فائده نهیں رهے گا۔

لهٰذا امام علیه السلام کے قیام کے لئے ضروری تھا که ایسے انسانوں کی آمادگی اور بیعت ان کے هاتھوں پر هوجائے جو امام کو هرگز تنها نه رکھنے والے هوں اور خون کے آخری قطرے تک الله کی راه میں قربان کرنے سے دریغ نه کرنے والے هوں ۔


موضوعات مرتبط: مہم ترین عامل ظہور

تاريخ : یکشنبه بیست و نهم اردیبهشت 1392 | 17:38 | نویسنده : سيد سجاد اطهر موسوي تبتي | نظر Comment


.: Weblog Themes By RoozGozar.com :.