سیرت امام جعفر صادق علیہ السلام

 

مقام اول:

امام صادق علیه السلام کو جب سدیر صیرفی نے عرض کیا : مولا! آپ ایسے نهیں بیٹھنا چاهئے بلکه آپ پر قیام واجب هے تو آپ نے وهاں موجود میمنوں(بکری کے بچے)کی ایک ریوڑ کی طرف اشاره کرتے هوئے فرمایا:" والله یاسدیر لوکان لی شیعة بعدد ھذه الجداء ماوسعنی القعود" اے سیدیر! خدا کی قسم اگر همارے شیعوں کی تعداد ان میمنوں کے برابر هوتی تو خانه نیشینی میرے لئے جائز نهیں تھا، سدیر کهتاهے میں نے نماز کے بعد جب ان میمنوں کی تعداد معلوم کرنے کے لئے انکی گنتی کی تو انکی تعداد ۱۷ تھی[1] ۔

 


[1] اصول کافی ،کتاب الایمان والکفر،باب ۱۰۰ ح

 

 

مقام دوم:

          دوسری جگه ملتا هے که امام صادق علیه السلام کے پاس سهل ابن حسن خراسانی پهنچا اور اس نے عرض کیا مولا آپ اپنے حق کو حاصل کرنے کے لئے قیام کیوں نهیں فرماتے ؟ تو آپ نے فرمایا:"میرے لئے مددگار اور یاور نهیں هے تاکه میں ان کو لے کر قیام کرسکوں" تو اس نے کها : مولا! خراسان میں بهت سارے شیعے موجود هیں اور سب آپ کی مدد کے لئے تیار هے ، تو امام علیه السلام نے فرمایا:" (سامنے گرم تنور موجود تھا) اگر ایسا هے تو تم اس تنور میں داخل هوجاؤ!" تو اس نے کها مولا! میرے بال بچے هیں گھربار هیں آپ کیسے یه فرمارهے هو که تنور میں جل جاؤں ؟تو امام نے فرمایا :ٹھیک هے نه جائیں " تھوڑی هی دیر گزری تھی ''هارون مکی'' خد مت امام میں شرفیاب هوا اور سلام کیا، مولا نے سلام کا جواب دیتے هی فرمایا " تم اس تنور میںداخل هوجاو" وه فورا هی "اطاعت مولا" کهه کر تنور میں کود پڑا ،امام علیه السلام نے خادم سے کها که تنور کا ڈھکنا بند کردیا جائے ، کچھ وقت گزرنے کے بعد سهل نے کها : مولا! آپ کا دوست اب تک تو راکھ بن چکا هوگا، زرا اجازت دیں تنور کو کھول کر دیکھوں ، امام علیه السلام کی اجازت سے جب تنور کو کھول کر دیکھا تو هارون مکی ترو تازه مطمئن طور پر ذکر خدا میں مشغول تھا پھر امام علیه السلام کی خدمت میں حاضر هوا ، اس کے بعد امام علیه السلام نے سهل ابن حسن خراسانے سے فرمایا: "بتاؤ! خراسان میں اس (هارون) کی مثال کتنے شیعے هیں؟" تو اس نے جواب دیا : مولا ! مجھے معاف کیجئے اس کی طرح تو ایک شیعه بھی نهیں هے ، تو امام علیه السلام نے فرمایا : اگر اس کی طرح چند نفر شیعه مددگار کے طور پر مجھے ملا هوتا تو میں ضرور باطل قوّتوں کے خلاف قیام کرتا"[1]۔



[1] مکاسب شیخ


موضوعات مرتبط: مہم ترین عامل ظہور

تاريخ : یکشنبه بیست و نهم اردیبهشت 1392 | 17:42 | نویسنده : سيد سجاد اطهر موسوي تبتي | نظر Comment


.: Weblog Themes By RoozGozar.com :.