نتیجه:

پس ان باتوں کا نتیجه یه هے که :

          مؤمن اور حقیقی شیعه ومددگار کی کمی هے جس کی وجه سے امام زمان علیه السلام بھی آج تک پردهٔ غیبت میں بسر کررهے هیں تاکه ان کے لئے مناسب مددگار آماده هوجائیں اور ظهور کے لئے زمینه سازی هوجائے ، یعنی امام کو تین سو تیره ایسے افراد کی ضرورت هے جو هارون مکی کی طرح امام کے هر امر پر لبیک کهنے والے هوں۔

لهٰذا همیں چاهئے که اپنے زمانے کے امام کی نصرت ویاری کے لئے صدق دل سے تیار هوجائیں اور اپنے اندر ایسے صفات پیدا کریں جس سے مزیّن هوکر هم حقیقی شیعه ومومن بن جائے اور جب تک هم ان صفات سے (جو قرآن کی آیت میں ذکر هوگئیں) مزین نهیں هونگے تب تک امام زمان علیه السلام کی خدمت اور دیدار کے قابل نهیں هوسکتے ۔

          امام زمان علیه السلام ظهور اور قیام کے لئے آماده هیں لیکن ابھی تک انسانوں کا جامعه اور یه دنیا اس قابل نهیں هوئی هیں که امام علیه السلام قیام فرمائیں اگرچه ظلم وجور سے دنیا بھری هوئٰی هے لیکن مقابل میں اچھے انسانوں کا وجود بھی تو ضروری هے ۔امام علیه السلام خود اس انتظار میں هے که کچھ ایسے اهل ایمان ان کو مل جائیں جو دل کی گهرائیوں سے اپنا سب کچھ امام کے قدموں میں قربان کرنےسے دریغ نه کرنےوالے هوں اور انکی طرف دست بیعت دیکر انکی رکاب میں اپنی جان کی قربانی دینے کے لئے اعلان کرنےوالے هوں۔


موضوعات مرتبط: مہم ترین عامل ظہور

تاريخ : یکشنبه بیست و نهم اردیبهشت 1392 | 17:43 | نویسنده : سيد سجاد اطهر موسوي تبتي | 1نظر Comment


.: Weblog Themes By RoozGozar.com :.