نتیجه:

پس ان باتوں کا نتیجه یه هے که :

          مؤمن اور حقیقی شیعه ومددگار کی کمی هے جس کی وجه سے امام زمان علیه السلام بھی آج تک پردهٔ غیبت میں بسر کررهے هیں تاکه ان کے لئے مناسب مددگار آماده هوجائیں اور ظهور کے لئے زمینه سازی هوجائے ، یعنی امام کو تین سو تیره ایسے افراد کی ضرورت هے جو هارون مکی کی طرح امام کے هر امر پر لبیک کهنے والے هوں۔

لهٰذا همیں چاهئے که اپنے زمانے کے امام کی نصرت ویاری کے لئے صدق دل سے تیار هوجائیں اور اپنے اندر ایسے صفات پیدا کریں جس سے مزیّن هوکر هم حقیقی شیعه ومومن بن جائے اور جب تک هم ان صفات سے (جو قرآن کی آیت میں ذکر هوگئیں) مزین نهیں هونگے تب تک امام زمان علیه السلام کی خدمت اور دیدار کے قابل نهیں هوسکتے ۔

          امام زمان علیه السلام ظهور اور قیام کے لئے آماده هیں لیکن ابھی تک انسانوں کا جامعه اور یه دنیا اس قابل نهیں هوئی هیں که امام علیه السلام قیام فرمائیں اگرچه ظلم وجور سے دنیا بھری هوئٰی هے لیکن مقابل میں اچھے انسانوں کا وجود بھی تو ضروری هے ۔امام علیه السلام خود اس انتظار میں هے که کچھ ایسے اهل ایمان ان کو مل جائیں جو دل کی گهرائیوں سے اپنا سب کچھ امام کے قدموں میں قربان کرنےسے دریغ نه کرنےوالے هوں اور انکی طرف دست بیعت دیکر انکی رکاب میں اپنی جان کی قربانی دینے کے لئے اعلان کرنےوالے هوں۔


موضوعات مرتبط: مہم ترین عامل ظہور

تاريخ : یکشنبه بیست و نهم اردیبهشت 1392 | 17:43 | نویسنده : سيد سجاد اطهر موسوي تبتي | 1نظر Comment

سیرت امام جعفر صادق علیہ السلام

 

مقام اول:

امام صادق علیه السلام کو جب سدیر صیرفی نے عرض کیا : مولا! آپ ایسے نهیں بیٹھنا چاهئے بلکه آپ پر قیام واجب هے تو آپ نے وهاں موجود میمنوں(بکری کے بچے)کی ایک ریوڑ کی طرف اشاره کرتے هوئے فرمایا:" والله یاسدیر لوکان لی شیعة بعدد ھذه الجداء ماوسعنی القعود" اے سیدیر! خدا کی قسم اگر همارے شیعوں کی تعداد ان میمنوں کے برابر هوتی تو خانه نیشینی میرے لئے جائز نهیں تھا، سدیر کهتاهے میں نے نماز کے بعد جب ان میمنوں کی تعداد معلوم کرنے کے لئے انکی گنتی کی تو انکی تعداد ۱۷ تھی[1] ۔

 


[1] اصول کافی ،کتاب الایمان والکفر،باب ۱۰۰ ح

 

 


موضوعات مرتبط: مہم ترین عامل ظہور

تاريخ : یکشنبه بیست و نهم اردیبهشت 1392 | 17:42 | نویسنده : سيد سجاد اطهر موسوي تبتي | نظر Comment

سیرت امام زین العابدین علیه السلام:

دوسری روایتوں میں دیکھیں تو امام سجاد علیه السلام یوں فرمارهے هیں:

جب عباد بصری نے آپ سے عرض کیا که: مولا ! آپ نے کیوں قیام اور جهاد کے بجائے حج کو اهمیت دی هے؟ تو آپ نے سوره توبه کی آیه نمبر ۱۱۲ کی طرف اشاره فرمایا جس میں ارشاد باری تعالٰی هے:" التائبون العابدون الحامدون السائحون الرّاکعون السّجدون الآمرون بالمعروف والناهون عن المنکر والحافظون لحدود الله وبشر المؤمنین" یعنی یه لوگ (اهل ایمان) توبه کرنے والے ،عبادت کرنے والے، حمد پروردگار بجالانے والے، راه خدا میں سفر کرنے والے، رکوع کرنے والے، سجده کرنے والے، نیکیوں کا حکم دینے والے، برائیوں سے روکنے والے اور الله کی حدود (قوانین) کی حفاظت کرنے والے هیں اور (اے پیغمبر) آپ انهیں(مؤمنوں کو) جنت کی بشارت دیدیں"

اس آیت شریفه کی طرف اشاره فرمانے کے بعد آپ نے ارشاد فرمایا: " اگر هم ان خصوصیات سے مزین دوستوں کو پائیں تو ان کے ساتھ ملکر جهاد کرنا حج سے زیاده فضیلت رکھتا هے"[1]۔



[1] فروع کافی کتاب الجهاد


موضوعات مرتبط: مہم ترین عامل ظہور

تاريخ : یکشنبه بیست و نهم اردیبهشت 1392 | 17:39 | نویسنده : سيد سجاد اطهر موسوي تبتي | نظر Comment

تبصره:

          یعنی ائمه علیهم السلام کے قیام کے لئے قوی انگیزه اور محکم اراده والے انسانوں کی ضرورت هے جو آپس میں هم فکر اور هم دل هوں اور الله تعالٰی کے عهد وپیمان پر پورا اترنے کے لئے سیسه پلائی هوئی دیوار کی مانند ڈٹے رهنے والے هوں اس صورت میں قیام الٰهی بدست ائمه علیهم السلام وقوع پذیر هوسکتا هے ۔

          وگرنه امام ان لوگوں پر کیسے بھروسه کرے جو احد کے مجاهدین کی طرح رسول کو تنها چھوڑ کر بھاگ جانے والے هوں اور اپنے حقیقی رهنما کی جان کی پرواه کئے بغیر مال دنیا کے لالچ میں پڑنے والے هوں اگر اس طرح کا انگیزه رکھنے والوں کی موجودگی میں امام علیه السلام ان کے ساتھ قیام کریں گے تو اگر انکو دشمن کی طرف سے مال دنیا کی لالچ دلائی جائے تو وه لوگ امام کو چھوڑ کر انکی طرف چلے جائیں گے ۔ اور اس طرح هونے کی صورت میں امام علیه السلام کی جان خطرے میں پڑھ جائیں گے تو پھر اس قیام کا کوئی فائده نهیں رهے گا۔

لهٰذا امام علیه السلام کے قیام کے لئے ضروری تھا که ایسے انسانوں کی آمادگی اور بیعت ان کے هاتھوں پر هوجائے جو امام کو هرگز تنها نه رکھنے والے هوں اور خون کے آخری قطرے تک الله کی راه میں قربان کرنے سے دریغ نه کرنے والے هوں ۔


موضوعات مرتبط: مہم ترین عامل ظہور

تاريخ : یکشنبه بیست و نهم اردیبهشت 1392 | 17:38 | نویسنده : سيد سجاد اطهر موسوي تبتي | نظر Comment

دقّت کریں !

 امام علیه السلام فرماتے هیں که : اگر لوگوں کی جمعیت همراه نه هوتی تو میں اپنی خانه نشینی کی زندگی اور حاکمیت کے اس دربار سے غائب رهنے کو اهمیت دیتے ۔ یعنی لوگوں کی بیعت اور خواهش امام علی علیه السلام کے قیام اور قبول خلافت کے وجوهات میں سے ایک اهم پهلو هے(جبکه عهد وپیمان الٰهی همیشه انکے قدم به قدم همراه هے پس عهد الٰهی کو قبول کرنے کے لئے لوگوں کی بیعت اور آمادگی بھی لازمی هے جب تک یارو مددگار نه هو امام تنها الله تعالٰی کے ساتھ کئے هوئے وعدے کو نبھا نهیں سکیں گے مگر اینکه الله تعالٰی کا خصوصی امداد اور معجزه کے ذریعے )۔


موضوعات مرتبط: مہم ترین عامل ظہور

تاريخ : یکشنبه بیست و نهم اردیبهشت 1392 | 17:37 | نویسنده : سيد سجاد اطهر موسوي تبتي | نظر Comment

مقام سوم:

          اسی طرح امام علیه السلام دوسری حدیث میں فرماتے هیں: " اگر مجھے قوی اراده رکھنے والا چالیس آدمی مل جاتے تو میں ضروراس (غاصب) قوم کے ساتھ جنگ کرتا[1] "



[1] بحار ج۲۸ ص۳۱۳


موضوعات مرتبط: مہم ترین عامل ظہور

تاريخ : یکشنبه بیست و نهم اردیبهشت 1392 | 17:37 | نویسنده : سيد سجاد اطهر موسوي تبتي | نظر Comment

مقام دوم:

اسی طرح ۲۵سال خانه نشینی کے بعد جب لوگ آپ کے دروازے پر آئے اور آپ کی حاکمیت کے لئے آمادگی کا اعلان کیا تو آپ نے جب قتل عثمان کے بعد خلافت کے لباس کو اپنے بدن زیبا کی خوشبو سے معطر کردیا تو آپ نے اس کی وجه لوگوں کی خواهش اور انکے هجوم آوری اور آمادگئی بیعت کو قرار دیا اور فرمایا: "اما والذی فلق الحبّ وبرأ النسمة ، لولا حضور الحاضر ، وقیام الحجة بوجود الناصر، وما اخذ الله علی العلماء الا یقارّوا علیٰ کظة ظالم ولا سغب مظلوم لالقیت حبلها علی غاربها، ولسقیت آخرها بکأس اولها ولالفیتم دنیا کم هٰذه ازهد عندی من عفطة عنز[1]" یعنی اس خدا کی قسم جس نے دانوں کو شگافته فرمایا اور زندگی کو خلق فرمایا ، اگر میری بیعت کرنے والوں کی بھیڑ اور ھجوم نه هوتے اور دوستوں نے مجھ پر نصرت کی حجّت تمام نه کی هوتی اور الله تعالیٰ نے علماء سے شکم پرستوں کی پُرخوری اور مظلوموں کی بھوک کی حالت میں رهنے کے وقت خاموش نه رهنے کا وعده نه لیا هوتا تو میں اس خلافت کی رسی کو اس کے اپنے کوهان پر پھینک کر ھنکا دیتا۔



[1] نهج البلاغه خطبه ۳ شقشقیه


موضوعات مرتبط: مہم ترین عامل ظہور

تاريخ : یکشنبه بیست و نهم اردیبهشت 1392 | 17:35 | نویسنده : سيد سجاد اطهر موسوي تبتي | نظر Comment

سیرت امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام


مقام اولّ:

          جب رسول گرامی اسلام رحلت فرماگئے اور جریان ثقیفه تمام هوگیا یعنی (حضرت زهرا سے فدک اور علی سے خلافت چھینی گئی) تو امیر مؤمنان مولای متقیان حضرت علی ابن ابی طالب علیه افضل الثناء والسلام تین راتوں تک بنت رسول حضرت فاطمه زهرا ،سبطین امام حسن اور امام حسین علیهم السلام کو لئے جنگ بدر میں شرکت کرنے والے اصحاب کے دروازوں پر دستک دیتے هوئے انکو اھلیبت علیهم السلام کے حق کے بارے میں یاد آوری کرکے اپنی مدد کے لئے پکارتے رهے مگر صبح هوتی تھی تو چار نفر (سلمان، اباذر، مقداد،عمار)کے علاوه کوئی بھی حضرت کے حق میں گواهی دینے کے لئے نهیں آئے۔

 اور جب آپ علیه السلام نے انکی بے وفائی اور عهد شکنی کا مشاهده کیا توآپ نے خانه نشینی اختیار فرمایااور قرآن کی جمع آوری شروع کیا[1]۔

 


موضوعات مرتبط: مہم ترین عامل ظہور

تاريخ : یکشنبه بیست و نهم اردیبهشت 1392 | 17:35 | نویسنده : سيد سجاد اطهر موسوي تبتي | نظر Comment

سیرت ائمه واستدلال بر مدعیٰ:

هم اپنے اس مدعیٰ کو ثابت کرنے کے چند ایسی باتین بیان کریں گے  جو اهلبیت علیهم السام کی سیرت سے تعلق رکھتی هین اور همارے اس بات کی دلیل هیں۔

پهلے ایک بار پھر امام علیه السلام کے توقیع شریف کے مورد بحث نکات و دھرائیں گے ۔

          امام علیه السلام نے یوں بیان فرمایا هے که" ولو انّ اشیاعنا ……علی اجتماع من القلوب فی الوفاء بالعهد علیهم" یعنی همار شیعے اگر انکے ذمے پر موجود وعده کو نبھانے کے لئے همدل هوجائے (یعنی ایک هوجائے اور متحد هوجائے) تو وه لوگ هرگز همارے ساتھ ملاقات کرنے سے محروم نهیں رهیں گے اور میری دیدار انهیں بهت جلد نصیب هوجائیں گے۔

          اس سے مراد یه هے که هم امام علیه السلام کے حقیقی دوستدار بن جائیں جب تک هم از تهه دل دن کی اطاعت کے قابل نه هوجائیں تب تک هم انکی نصرت کے لائق نهیں اور جب تک امام علیه السلام کے لئے مدد کرنے والے اور انکے فرمان پر جان دینے والے افراد تیار نهیں هونگے تب تک وه ظهور نهیں فرمائیں گے۔


موضوعات مرتبط: مہم ترین عامل ظہور

تاريخ : یکشنبه بیست و نهم اردیبهشت 1392 | 17:33 | نویسنده : سيد سجاد اطهر موسوي تبتي | نظر Comment

بارزترین عامل ظهور

تحریر

سید سجادحسین اطهرؔ موسوی

 

مرکز تخصصی امامت ومهدویت

خراسان(مشهد مقدس)


موضوعات مرتبط: مہم ترین عامل ظہور

تاريخ : یکشنبه بیست و نهم اردیبهشت 1392 | 2:48 | نویسنده : سيد سجاد اطهر موسوي تبتي | نظر Comment
.: Weblog Themes By RoozGozar.com :.