کیسے اپنے زمانے کے امام کی مدد کریں؟

          امام زمان علیہ السلام اگرچہ غیبت میں ہیں لیکن ہمارے تمام اعمال سے واقف ہیں۔ اور جس طرح سورج بادلوں کے آوٹ میں رہ کر تمام ذی روح اور نباتات کو اپنے وجود سے فائدہ پہنچا سکتا ہے اسی طرح بلکہ اس سے بھی بالاتر اور بہتر طور پر ہمارا امام ہمیشہ اپنے وجود مقدس سے تمام دنیا میں موجود اللہ تعالیٰ کی مخلوق کو فیض پہنچا سکتے ہیں کیونکہ فیوضات الٰہی کا محور ومنبع وہی ہستی ہے جسے بقیۃ اللہ کہا جاتا ہے ۔یعنی امام ہر حال میں ہمارا حامی ومدد گار ہیں اور ہر صورت میں ہماری مدد فرماتے ہیں ۔

          لیکن غیبت امام ہمارے لئے بھی سخت ہے اور خود امام علیہ السلام کے لئے بھی ۔

پس اس دور کے اختتام اور انکے جلدی ظہور کے لئے ہم کیسے انکی مدد کرسکتے ہیں؟

          بطور خلاصہ ہم یہاں کچھ موضوعات کو بیان کرتے ہیں جن پر عمل کرکے ہم اپنے مولا وآقا کی مدد کرسکتے ہیں۔

آگاہ رہنا امام کی مدد خدا کی مدد ہے اور ان تنصروااللہ ینصرکم ویثبت اقدامکم جو اللہ کی مدد کرے گا اللہ اسکی مدد فرمائے گا اور اسکے قدموں کو مستحکم کردے گا۔

          ہم مندرجہ ذیل عنوانات کے توسط سے اپنے امام کی مدد کرسکتے ہیں۔

          تقویٰ اختیار کرکے یعنی انجام واجبات اور ترک محرمات اور تہذیب نفس کرکے۔

          امام علیہ السلام اور انکے ظہور کے آداب وصفات سے واقفیت حاصل کرکے۔

          جاہلوں اور امام علیہ السلام کی طرف کم توجہ دینے والوں کی راہنمائی کرکے ۔

          امر بہ معروف ونہی از منکر اور لوگوں کو خدا اور امام کی طرف دعوت دے کر۔

          امام علیہ السلام کے تعجیل فرج اور انکی سلامتی کے لئے دعائیں مانگ کر۔

          لوگوں کے درمیان امام علیہ السلام کی محبت اور ان کے دلوں کو امام علیہ السلام کی طرف متوجہ کرکے۔

          اھل تقویٰ ، امام علیہ السلام کے دوستوں اور شیعوں میں سے جو بھی نیازمند ہو انکی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے امام علیہ السلام کی نیابت میں انکی مدد کرکے۔

          مفہوم ومعناے انتظار کو سمجھ کر اس پر عمل کرکے۔

          آج سے ہی گناہوں سے توبہ کرکے اور مستحقین کو انکے حقوق واپس کرکے اور اپنے اور دیگر مومنین کے لئے مغفرت کی دعائین مانگ کر۔

          جہاں تک ممکن ہو امام علیہ السلام کی یاد اور اہلبیت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فضائل کی محفلیں منعقد کرکے۔ اور انکے غم کے ایام میں عزا کی محافل منعقد کرکے۔

          امام علیہ السلام کی نیابت میں صدقہ وخیرات دے کر۔

          امام علیہ السلام کی نیابت میں ، نمازیں، قرآن خوانیاں، طواف، حج، عمرہ ، زیارتیں  …… بجا لاکر یا کسی کو نیابت میں ان امور کو انجام دینے کے لئے اجیر بنا کر یا خود انجام دینے کے بعد امام کے نام ہدیہ کرکے۔

          امام علیہ السلام کو ہمیشہ حاضرو ناظر جان کر انکے حقوق اور آداب کی رعایت کرکے۔

          غیبت امام کی سختی اور دشمنوں کے برا بھلا کہنے کی اذیت کو برداشت کرکے اور صبر سے کام لے کر۔

          اپنی چاہت پر خدا ورسول کی چاہت اور خوشنودی کو مقدّم کرکے۔

          امام علیہ السلام اور دیگر ائمہ طاہرین علیہم السلام کی اخلاقی سیرت کی پیروی کرکے۔

          اپنے اموال، افکار، قرطاس وقلم، علم وہنر، اور صلاحیتوں میں سے کم از کم ۱۰فیصد ترویج فرھنگ مہدویت اورترویج مکتب امام صادق علیہ السلام کے لئے خرچ کرکے۔

          خلاصہ یہ کہ :

                   اپنے آپ کو امام علیہ السلام اور دیگر ائمہ طاہرین کے لئے باعث زینت بنا کر بہ باعث شرمساری ۔

ان موضوعات کے علاوہ اور بھی بہت سارے موضوعات ہیں اور خود انہی موضوعات کے اندر بحث کریں تو بہت سارے جزئی موضوعات بن سکتے ہیں لیکن ہمارا مقصد طولانی بیان نہیں بلکہ تحویل تفکر ہیں ۔

          اس موضوعات کے علاوہ بھی کچھ موضوعات بخش '' دور غیبت میں ہماری زمہ داریاں " میں ملاحظۃ کرسکتے ہیں۔


موضوعات مرتبط: آداب انتظار

تاريخ : یکشنبه بیست و نهم اردیبهشت 1392 | 1:34 | نویسنده : سيد سجاد اطهر موسوي تبتي | نظر Comment

زمان غیبت میں ہماری ذمہ داریاں

غیبت کے دور میں ہماری ذمہ داریاں چونکہ ہم ایک ایسے زمانے میں زندگی گزار رہے ہیں جس میں ہمارا سرور وسردار ہماری نگاہوں سے غائب ہیں اور ہمارے دسترس ان تک نہیں ہے جبکہ وہ ہمارے درمیان بطور ناشناس زندگی کرتے ہیں اور ہمارے درمیان میں رہتے ہیں ہماری مجلسوں میں شرکت فرماتے ہیں لیکن ہم انہیں نہیں پہچانتے ۔ اور ان کو دیکھنے کی سعادت سے ہمارا محروم رہنا اور انکو نہ پہچاننا ہمارے لئے بہت ہی سخت ہے جیسے کہ ہم دعائے ندبہ میں پڑھتے ہیں :

عزیزعلی ان ار الخلق ولا تری    یعنی : ہمارے لئے بہت سخت ہے کہ لوگوں کو دیکھیں اور تجھے نہ دیکھیں۔

پس اس دور میں ہماری کچھ زمہ داریاں ہیں جن کو انجام دیکر ہم دوچار قدم ظہور سے نزدیک ہوسکتے ہیں جن میں سے کچھ ہم یہاں بیان کریں گے۔ 

غیبت کے دور میں ہماری ذمہ داریاں مندرجہ ذیل ہیں:

١۔صفات وآداب آن حضرت علیہ السلام سے آشنائی و حصول معرفت۔

٢۔ امام علیہ السلام کی یاد کی نسبت آداب کی رعایت۔

٣۔ امام زمان علیہ السلام کی خصوصی محبت۔

٤۔ لوگوں کے درمیان امام علیہ السلام کی محبت پیدا کرنا۔

٥۔ امام علیہ السلام کی تعجیل فرج وظہور کا انتظار کرنا۔

٦۔ امام علیہ السلام کی دیدار کے مشتاق ہونے کو ثابت کرنا۔

٧۔ امام علیہ السلام کے فضائل اور مناقب کو ذکر کرنا۔

٨۔ امام علیہ السلام کی فرقت کے حوالے سے غمگین رہنا۔

٩۔ امام علیہ السلام کے موضوع پر جو مجالس اور محافل منعقد ہو تو اس میں خصوصی شرکت کرنا۔

١٠۔ امام علیہ السلام کے ذکر مناقب وفضائل کے لئے مجالس کا انعقاد۔

١١۔ شعر ونثر کے ذریعے امام علیہ السلام سے عقیدت کا اظہار کرنا۔

١٢۔ امام علیہ السلام کے نام کو سنتے ہی احتراماً کھڑے ہوجانا۔

١٣۔ اللہ تعالیٰ سے امام علیہ السلام کی خصوصی معرفت کے لئے درخواست ودعا کرنا ، اور امام علیہ السلام کے لئے مسلسل دعا ئیں دینا، انکی سلامتی اور تعجیل فرج اور ان سے ملاقات وغیرہ کی دعا ئیں کرنا۔

١٤۔ امام علیہ السلام کے ظہور کی جو علامتیں احادیث اور روایات میں بیان ہوئی ہیں ان سے واقفیت حاصل کرنا۔

١٥۔ امام علیہ السلام کی نیابت میں صدقہ دینا اور انکی نیابت میں حج وزیارات بجالانا اور انکی نیابت میں دوسروں کو حج پر بھیجنا، اور انکی نیابت میں طواف کعبہ بجالانا ، اور انکی نیابت میں مومنین کو زیارات مشاہد ایمہ پر بھیجنا ، جو کہ مستحب امر ہے اور اسی طرح امام علیہ السلام کی سلامتی کے لئے صدقہ وخیرات کرنا، اور انکی نیابت میں صدقات تقسیم کرنا وغیرہ........

١٦۔ امام علیہ السلام کی خدمت کرنے کی کوشش کرنا ، انکی مدد کے لئے دل کی گہرائیوں سے قصد رکھنا اور انکی مدد کے لئے اہتمام یعنی تیاری کرنا۔

١٧۔ ہر روز اپنی واجب نمازوں کے بعد اور ہر ایام نیک ومخصوص میں خصوصا ہر شب جمعہ شب ہائے اعیاد اعظم امام علیہ السلام سے تجدید عہد یعنی تجدید بیعت کرنا۔

١٨۔ اپنے اموال کے ذریعے امام علیہ السلام قربت کی کوشش کرنا اور اسی طرح امام علیہ السلام کے شیعیان اور صالح دوستوں سے اپنے اموال کے ذریعے صلہ کرنا۔

١٩۔ جہاں بھی ہو امام علیہ السلام کو سلام کرنا ، ان پر درود بھیجنا ، ان کے نام نمازوں کے ثواب کو ہدیہ کرنا وغیرہ...

٢٠ ۔ امام علیہ السلام سے مخلص اور انکی دیدار کے مشتاق لوگوں کی زیارت کو جانا اور شیعیان امام علیہ السلام کا ایک دوسرے کی زیارت کو جانا۔

٢١۔ قرآن خوانی کا ثواب امام علیہ السلام کے لئے ہدیہ کرنا ۔

٢٢۔ اللہ تعالیٰ سے امام علیہ السلام کا وسیلہ دینا ، لوگوں کو امام علیہ السلام کی طرف دعوت دینا اور امام علیہ السلام کے حقوق کی رعایت کرنا۔

٢٣۔ امام علیہ السلام کو یاد کرتے وقت خضوع وخشوع دل میں پیدا کرنا اور مسلسل ان کی یاد میں رہنا اور امام علیہ السلام کو یاد رکھنے کے آداب سے واقف ہونا، امام علیہ السلام کی یاد سے غافل نہ رہنے کی خصوصی دعا کرنا۔

٢٤۔ عالم کو چاہئے کہ اپنے علم کو عام کرے اور اپنے عمل کو آشکار کرے، شر دشمنان سے تقیہ کرے، امام علیہ السلام کے بارے میں بولی جانے والی باتوں سے جو اذیت ہوتی ہے یا امام علیہ السلام کے وجود مقدس کی تکذیب کرنے والوں سے جو اذیتیں آتی ہیں ان پر صبر کرے اور اللہ تعالیٰ سے حصول صبر واستقامت کی دعا کرے اور مومنین ، اپنے ساتھیوں اور دوستوں کو صبر کی تلقین کرے۔

٢٥۔ امام علیہ السلام کی جب یاد آئے تو اپنے بدن کو خاشع رکھے ، اپنی چاہت کے مقابلے میں امام علیہ السلام کی چاہت کو مقدم کرے اور جن مقامات کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ امام علیہ السلام کے قدوم مبارک سے مشرف ہوا ہے ان مقامات کو زینت دے اور ان کی احترام کرے ۔

٢٦ ۔ امام علیہ السلام کے اعمال اور ان کے اخلاق حسنہ کی اتباع اور پیروی کرے ۔

٢٧۔ امام علیہ السلام کے ظہور کا وقت معین کرنے والوں کی تکذیب کرے اور جو لوگ امام علیہ السلام کی غیبت کبری کے دور میں انکے نائب خاص ہونے کا دعوی کرے ان کی تکذیب کرے ۔

٢٨ ۔ اللہ تعالیٰ امام زمان علیہ السلام کی زیارت کی ہمیشہ درخواست کرے اور خود امام علیہ السلام سے اور دوسرے ائمہ اطہار سے متوسل ہوکر بھی امام علیہ السلام کو اپنی زیارت کرانے کی درخواست کرے اور یہ سلسلہ تا آخر عمر جاری رکھے یہاں تک کہ امام علیہ السلام کا ظہور ہو۔

٢٩۔ امام حسین علیہ السلام اور ان کے اصحاب باوفا کی یاد میں زیادہ روئے اور شہادت امام علیہ السلام کے بعد اہلحرم پر آنے والی مصیبتوں کی یاد کرتے ہوئے زیادہ روئے اور شام میں اہلحرم پر جو مصیبتیں ڈھائی گئیں ان پر خصوصی روئے کیونکہ ان مصائب پر تمام ائمہ نے رویا ہے اور خود امام زمان علیہ السلام آج تک خون کے آنسو بہا رہے ہیں۔

٣٠۔ امام حسین علیہ السلام کی زیارت کرے ، اور اگر ممکن ہو تو حتی الامکان انکی قبہ شریف اور ضریح مطہر پر جاکر انکی زیارت کرے ۔

٣١۔ ائمہ اہل بیت علیہم السلام کے ساتھ اپنی عقیدت اور محبت کو مستحکم کرے اورحقیقی معنیٰ میں محب اہل بیت بننے کی کوشش کرے اور محمد وآل محمد علیہم السلام کے دشمنوں سے اظہار بیزاری کرے اور جہاں تک ممکن ہوسکے ان سے دوری کرے ۔

٣٢۔ اپنے دینی بھائیوں ، ہمسایوں ، ہمشہروں ، رشتہ داروں اور مومنین کے حقوق کو پہنچانے کا اہتمام کرے ۔

٣٣۔ نماز امام زمان علیہ السلام پڑھنے کی حتی الامکان کوشش کرے اور جس وقت بھی توفیق ہو اس نماز کو پڑھ لے ، اسی طرح دوسرے ائمہ علیہم السلام کی جو نمازیں ہیں ان کو بھی بجالانے کی کوشش کرے، اور ائمہ علیہم السلام کے نام صدقات اور نمازوں کے ثواب ہدیہ کرے اور ان کی خوشی کی اللہ سے درخواست کرے اور ان کے وسیلے سے اللہ کی رضاؤں کے لئے دعا کرے۔

٣٤۔ اپنے نفس کی تزکیہ کرے اور اپنی زبان کو ذکر ویاد الٰہی کے سوا کسی دوسرے بے ہودہ کام میں نہ رکھے ، تقویٰ حاصل کرے ، اور تمام واجبات کو بجا لائے اور تمام محرمات کو ترک کرے یہاں تک کہ تمام مستحبات کو بجا لانے کی کوشش کرے اور تمام مکروہات کو بھی ترک کرنے کی کوشش کرے۔ اور شبہات سے تو پرہیز کرنا ہی چاہئے۔

٣٥۔ اور یہ تمام چیزیں انسان کے لئے اس وقت تک ممکن نہیں جب تک علم حاصل نہ کرے پس چاہئے دین اور دنیا کے حوالے سے ضروری علوم کو حاصل کرے دین کو سمجھے اور امام زمان علیہ السلام کے بارے میں خصوصی علوم حاصل کرے تاکہ امام علیہ السلام کی معرفت کے ساتھ اسکی محبت میں اضافہ ہو جاتا ہے اور جب امام معلوم ہوجاتا ہے تو اس امام کے ذریعے انسان خدا تک پہنچ جاتا ہے۔

 

                                                           مشہد مقدس

                                              ربیع الاول(غدیر ثانی)۱۴۳۱ہجری


موضوعات مرتبط: آداب انتظار

تاريخ : یکشنبه بیست و نهم اردیبهشت 1392 | 1:34 | نویسنده : سيد سجاد اطهر موسوي تبتي | نظر Comment

اصحاب میں سے ایک گروہ نے سوال کیا : اے رسول خدا یہ امر(ظہور مہدی) کب واقع ہوگا ؟

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اس وقت جب لوگ نمازوں کو تاخیر سے بجا لانےلگے اور شہوات کی پیروی کرنے لگے اور شراب خوری میں مشغول ہوجائے ………اس زمانے میں مردوں کی حالت یہ ہوگی کہ وہ اپنی بیویوں کی اطاعت کریں گے اور ہمسایوں (پڑوسیوں ) کو اذیتیں پہنچائیں گے اور رشتہ داروں سے قطع تعلق کریں گے ………شریک لوگ معاملوں میں ایک دوسرے کے ساتھ خیانت کریں گے ………زنا عام ہوجائے گا ، مردوں کی زینت عورتوں کی لباس ہوگی اور حیا کا پردہ عورتوں کے سروں سے اٹھایا جائے گا۔

……اس زمانے میں لوگ ایک دوسرے کو ثروت کی وجہ سے تعریف کریں گے اور مال کو نوازش کے طور پر مصرف کریں گے ……مومن خوار ہوگا اور منافق کو عزّت ملے گی، انکی مساجد اذان سے آباد ہوگی اور ان کے دل ایمان سے خالی ہونگے ……

        افسوس ہے ان لوگوں کے لئے جن کا معبود مال ہوگا (یعنی وہ لوگ مال کی پرستش کریں گے ) اور وہ لوگ لمبی آرزوئیں رکھنے والے اور کم عمر رکھنے والے ہونگے ۔ اس حال میں بھی وہ اپنے مولا کی مجاورت میں ہونے کی طمع میں ہونگے ، حالانکہ اچھے اعمال کے بغیر اس مقام پر کوئی بھی نہیں پہنچے گا اور عمل بھی عقل کے بغیر مکمل نہیں ہوتے ۔

                                                                        (بحار ج ۵۲ ص ۲۶۲)

        جب یہ حدیث پڑھی تو بری طرح میری فکر گرفتار ہوگئی اور خود سے کہا:

        اس موجودہ دور میں جس کی توضیح ۱۴۰۰ سال پہلے رسول گرامی اسلام فرماگئے ہیں اور ہر شخص اپنی دنیا کی فکر میں مصروف ہے …… آخر ہم ان تمام برائیوں کے انجام دینے کے لئے خلق نہیں ہوئے ۔ ہم صاحب وسردار والے ہیں ، ہمارے مولا وآقا زندہ اور ہمارے اعمال کے گواہ ہیں ، ہم بے سرپرست نہیں ، اللہ تعالٰی نے ہمارے سرپرست امام زمان کو قرار دیا ہے اور انہیں اتنی لمبی عمر عنایت کی ہے کہ قیامت تک آنے والی نسلوں کے اعمال کے گواہ بن جائیں اور ہر قوم کو جس دن اپنے امام کے ساتھ محشور فرمائیں گے اس دن ہمیں انکے سائے میں محشور کرے۔

        اگر امام زمان یوں فرمائے تو بے جہت نہیں:

        جن چیزوں نے مجھے لوگوں کی نگاہوں سے چھپا کر رکھا ہے وہ لوگوں کے بارے میں مجھ تک پہنچنے والی ناپسند اور بری چیزوں کی خبروں کے سوا کچھ اور نہیں۔                      (بحار ج ۵۳ ص ۱۷۷)

        میں نے سوچاکہ: کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ حدیث مجھ پر اور میرے گھر والوں پر بھی صدق آئے؟ ٹھیک ہے کہ انسان اپنی زندگی میں کسی قاعدہ اور نظام کا پائیبند ہو……مگر تو……؟

        اس حدیث کے حوالے کو دیکھ کر مراجعہ فرمائیں۔ میں یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ آپ کو بھی کسی نہ کسی طریقے سے اپنے دائرے میں لے لے گی ۔

                رسول گرامی اسلام کے اس پیام کو دوسروں تک بھی پہنچائیں ۔

                                اور اپنے زمانے کے امام کے لئے دعا کریں۔

                                        اور ان امور سے باز رہیں جو ہمارے امام کے دل شکنی کا باعث بنے۔

ہر لحظہ امام علیہ السلام کے ظہور کے لئے آمادہ رہیں اور جب تک امام ظہور نہ ہو تب تک انکی اس غیبت اور ہماری آپ علیہ السلام سے جدائی پر ندبہ کریں۔ اور جہاں تک ممکن ہو مومنین کو ایک اجتماعی فرھنگ کی دعوت دیں اور ظہور امام کے لئے مقدمات فراہم کرنے کی کوشش کریں ۔

        امر بالمعروف ونہی از منکر امت کی مہم ترین زمہ داریوں میں سے ہے اس کو انجام دینے میں کوتا ہی نہ کریں بالآخر ہم یہ امید تو رکھتے ہیں کہ ہم امام زمان کے سپاہیوں اور دوستوں میں سے ہوجائیں۔

        اللھم عجل لنا ظہورہ انھم یرونہ بعیدا ونراہ قریبا واجعلنا من خیر اعونہ وانصارہ برحمتک یا ارحم الراحیم


موضوعات مرتبط: آداب انتظار

تاريخ : یکشنبه بیست و نهم اردیبهشت 1392 | 1:31 | نویسنده : سيد سجاد اطهر موسوي تبتي | نظر Comment

E دعاء ندبہ ایک جامع اور پر سوز دعا ہے جسے امام جعفر صادق علیہ السلام نے اپنے شیعیان اور دوستداران کو تعلیم دی ہے ۔

E دعاء ندبہ آدم سے لیکر خاتم تک انبیاء واولیاء کےروئے زمین پر وجود انے کی ایک فشردہ تاریخ کو بیان کرتی ہے ۔

E دعاء ندبہ آدم سے لیکرمہدی آخر الزمان تک اللہ تعالیٰ کے ابنیاء واولیاء (خدا کے حجتوں) کے تسلسل کو تداوم دینے والی ایک دعاہے ۔

E امام صادق علیہ السلام نےامر فرمایا ہے کہ اس دعا کو چار عیدوں(فطر، قربان، غدیر اور جمعہ)میں پڑھی جائے ۔

E اور ہمیں امر فرمایا ہے کہ امام مہدی کی غیبت کے دور میں اس دعا کے ذریعے اپنے پیشوا کے ساتھ اپنے دل کی باتوں کو بیان کریں اور انکے ساتھ تجدید عہد کریں ۔

ہمیں یقین ہےکہ ہمارا امام حاضرو ناظر ہے اور ہمیں چاہئے کہ اپنے مولا وآقاکی خدمت کریں ۔ کیونکہ مولا کے حضور میں خاضع وخاشع اور انکی خدمت کے لئے ہمہ دم حاضر رہنا عبد کا فریضہ ہے ، تو ہمیں چاہئے کہ اپنے امام کی خدمت کے لئے ہر وقت تیار اور آمادہ رہیں ۔

        اور امام علیہ السلام کی سب سے بڑی خدمت یہ ہے کہ انکی سلامی اور تعجیل امر ظہور کے لئے دل کی گہرائیوں سے تمام شرائط کے ساتھ دعاکی جائے ۔

        پس خوشنصیب ہیں وہ لوگ جو اپنی نمازوں کو انکے لئے دعا کرکے تمام کرتے ہیں اور کم از کم ہفتے میں ایک مرتبہ جمع ہوکر انکی یاد کی مجلس برپا کرتے ہیں اور دعاء ندبہ جیسی دعا کے ذریعے اپنے قلوب کو صیقل کرتے ہیں ۔

        خدا کی قسم ! امام مہدی علیہ السلام کے حق میں دعا کرنا ہمارے ائمہ طاہرین علیہم السلام کی سیرت ہے انہوں نے اپنی دعاؤں میں امام مہدی علیہ السلام کو یاد فرماتے تھے۔

        امام صادق علیہ السلام کا فرمان ہے : (لو ادرکتہ لخدمتہ ایام حیاتی ) یعنی اگر میں اس (مہدی)کے زمانےکو پاؤں تو میں اپنی پوری زندگی انکی خدمت میں گزاروں گا ۔(یہ حدیث اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ امام مہدی کو دوسرے ائمہ پر زیادہ فضیلت ہو بلکہ شان ومرتبت میں سب برابر ہیں یہاں امام صادق علیہ السلام کا مقصد امام مہدی علیہ السلام کا مشتاق ہونا اور انکی اہمیت سے لوگوں کو آگاہ کرنا ہے)

        اے امام زمان علیہ السلام کے ساتھ عہد وپیمان باندھنے والو!

        اے دعاء ندبہ کی محفل برپا کرنے والو!

        اے یوسف زہرا کےانتظار میں بسر کرنے والو!

اپنے پورے وجود کے ساتھ جہاں تک ممکن کو اس امام کی خدمت کرو جو غیبت کی زندان میں زندگی گزار رہا ہے اور دشمنان خدا سے انتقام لینے کی فرصت کے انتظار میں ہے ۔

خدمت امام حقیقت میں یہ ہے کہ :

ç                       اپنے اعمال اور کردار کو درست کرے تاکہ انکے دوستوں میں شریک ہوسکیں ۔

ç                       اپنے آپ کو اخلاق حسنہ سے مزین کیا جائے تاکہ ہم انکے لئے باعث زینت بن سکیں نہ باعث شرمساری ۔چونکہ اس خاندان کا اعلان ہے (شیعتنا کونوا لنا زینا ولاتکونوا لنا شینا) ہمارے شیعو تم لوگ ہمارے لئے زینت بن جاو نہ باعث شرمساری ۔

ç                       ہمیشہ اور ہرجگہہ ان کی یاد اور تذکرہ کرتے رہیں تاکہ جن کو امام علیہ السلام کی معرفت نہیں وہ آگاہ ہوجائیں اور انکی پیروی کی طرف راغب ہوجائے ۔

ç                       ہمیشہ اپنے مولا کی جدائی کی وجہ سے غمگین رہیں کیونکہ فراق محبوب میں غمگین رہنا عاشق کا شیوہ ہے ۔

ç                       کم از کم ہم انکی دل آزاری اور ناراحتی وتکلیف کا باعث نہ بن جائیں لہٰذا گناہوں کے انجام دینے سے پرہیز کریں ۔

ç                       زیادہ سے زیادہ اپنے مولا وآقا کی خوشنودی اور راحت قلبی وشادمانی کے لئے اچھے اعمال انجام دیں اور انکی نیابت میں نمازیں، زیارتیں ، صدقات وخیرات کیا کریں ۔

ç                       امام علیہ السلام کے قلب مطہر کو آرام دینے کی کوشش کریں ، کیونکہ حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی طرف سے یوں پیغام آیا ہے کہ:

دلی شکستہ تر از من در آن زمانہ نبود

در این زمان دل فرزند من شکستہ تر است

ç کہیں ایسا نہ ہو کہ ہمارے برے اعمال ، بدگفتاریون اور بد کرداریوں کی وجہ سے امام علیہ السلام کا دل اور شکستہ تر نہ ہوجائے ۔

ç                       جب انسان ان تمام شرائط کے ساتھ دعاء ندبہ پڑھے تو پھر اس میں کوئی شک نہیں کہ امام مہدی علیہ السلام اس کے استغاثے کوسن لیتا ہے اور اس کے حق میں دعا فرما تے ہیں ، اور جب امام دعا فرما تے ہیں تو خالق کون ومکان خدائے متعال اسکی دعا کوقبول کرتا ہے اور انکی حاجتوں کو بر آوردہ فرماتا ہے اور ہماری اولین حاجت اپنےمولا کے ظہور اور انکی زیارت اور انکے اصحاب میں سے قرار پانا ہے تو یہ بھی پوری ہوجائیگی۔

الھم عجل لولیک الفرج والعافیۃ والنصر واجعلنا من اعوانہ وانصارہ برحمتک یا ارحم الراحمین


موضوعات مرتبط: آداب انتظار

تاريخ : یکشنبه بیست و نهم اردیبهشت 1392 | 1:30 | نویسنده : سيد سجاد اطهر موسوي تبتي | نظر Comment

کیا یہ مناسب ہے؟

    کیا یہ مناسب ہے کہ : جو انسان اپنے زمانے کے امام (ع) کے ساتھ معنوی رابطہ رکھ سکتا ہے وہ اپنے روح کو مادّیات اور ھوا پرستی میں غرق کر رکھے اور اپنے وجود کو غفلت کی زنجیروں میں ڈال کر اسیر کر رکھے؟!

    کیا یہ مناسب ہے کہ : جو انسان خاندان وحی سے محبّت اور انکی معرفت کی فضاؤں کے دوش پر سوار ہوکرمعنویت اور عشق کے آسمانوں کی بلندی کی طرف ہروازکر سکتا ہے وہ اپنے پروں کو اپنے برے اعمال کے قینچی سے کاٹ کر دنیا کے تاریک زندان میں اپنے آپ کو شیاطین کا کھلونا اور ان کے دربار کا اسیر بنا رکھے؟!!

    کیا یہ مناسب ہے کہ: سات ارب انسانوںکی جمعیت میں اس پوری دنیا میں صرف کم مقدار میں لوگ عصرغیبت کے مفاسد اور نقصانات سے آشنائی رکھے اور باقی اکثریت سے لوگ اس زمانے کے احوال اور خصوصیات سے ناواقف رہے؟!!!

    کیا تمام انسان اپنی ھویت اور حقیقت اور اپنے انسانی اقدار سے باخبر نہیں ہونا چاہئے کیا تمام انسانوں کو اس بات کا علم نہین ہونا چاہئے کہ اگر اپنے مقصدتخلیق کونہ سمجھے اور اپنے معبود کی معرفت حاصل نہ کرے اور انسان کے لئے خالق کی طرف سے وضع شدہ قوانین اور معین شدہ راستوں کی رعایت نہ کرے تو وہ چوپایوں سے بھی بد تر ہے اور اگر الٰہی اقدار کی حامل ہوجائے تو انسان کی قیمت فرشتوں سے بھی زیادہ ہے ؟

    پس اگر تمام انسانوں میں اس حقیقت کو درک کرنے اورسمجھنے کی لیاقت نہیں ہے اوریہ لیاقت اور توفیق صرف ایک خاص گروہ کے لئے ہے اور اس بلندی پر بعض انسانوں کو ہی پہنچناہے تو

            ہم کیوں ان میں سے نہ ہوجائیں جو کامیابی کے راستے پر ہیں؟

    کارواں چل دئے میں قلب بیابان میںسوتا رہا اور اب راستہ کس سے معلوم کروں ؟ کیا کروں؟ اور کیسے ان افرادتک پہچ جاؤں جن کا کاروں کامیابی کے راہ پر چل رہا ہے؟

    اب بھی فرصت باقی ہے ،اب بھی اس کاروان تک پہنچ سکتا ہے زندگی کا ایک لمحہ ہی باقی کیوں نہ ہو ہم اسی ایک لمحے میں بھی کاروان حق سے مل سکتے ہیں!!!

        تو دیر کس بات کی آئیے ابھی ہی سفر نجات کا آغاز کریں اور اپنے اس امام (ع) کی معرفت کے راہ پر سفر شروع کریںجوتنہا ذریعہ نجات ہے ۔ اور رسول گرامی اسلام کا فرمان ہے : من مات ولم یعرف امام زمانہ مات میتۃ الجاھلیۃ جو اپنے زمانے کے امام (ع) کی معرفت کے بغیر مرجائے تو وہ جاہل کی موت مرا ہے ۔دیر نہ کریں فرصت کو ضائع نہ کریں اور جہاں تک ممکن ہو جلدی سچوں کے ساتھ ہوجائیں چونکہ اسلام کاپیغام یہی ہے کہ ' کونوا مع الصادقین'سچوں کے ساتھ ہوجاو۔


موضوعات مرتبط: آداب انتظار

تاريخ : یکشنبه بیست و نهم اردیبهشت 1392 | 1:28 | نویسنده : سيد سجاد اطهر موسوي تبتي | نظر Comment

بگوبہ ! آنکہ می گوید بہ یک گُل کی بہار آید؟

گُل نرجس جہانی را گلستان می کند آخر!!

    ٭    یا صاحب الزمان !   

            کیسے ممکن ہے کہ آپ جیسے امام (ع) کے ہوتے ہوئے ہم ان کی طرح پھریں جن کا کوئی سرپرست نہیں؟

    ٭    جب نماز تمام ہوجائے تو اپنی جائے نماز کو گواہ بنائیں کہ :

            میں نے کوئی نماز اس کے ظہور وفرج کی دعا کے بغیر تمام نہیں کی۔

    ٭     آج کا دن اےک بہترین دن ہے

             کیونکہ میں نے اسکا آغاز اپنے مولا (ع) کے نام صدقہ دے کر کیا ہے ۔

    ٭    امام زمان علیہ السلام تیرے حق میں دعا کرتے ہیںمگر:

            تو نے آج تک ان کے حق میں کون کون سے نیک امور انجام دیا ہے؟

    ٭    جب بھی احساس دلتنگی ہوجائے اور پریشانیاں تیری ملاقات کے لئے آئے تو:

            آسمان کے فرشتوں سے ہم صدا ہوکر بلند آواز میں کہو: یا اباصالح المہدی ادرکنی۔ اور کہو : اللہم کن لولیک الحجۃ ابن الحسن صلواتک علیہ وعلیٰ آبائہ فی ھذہ الساعۃ وفی کل ساعۃ ولیا وحافظا وقائدا وناصراودلیلا وعینا حتی تسکنہ ارضک طوعا وتمتعہ فیھا طویلا۔ضرور سکون حاصل کروگے۔

    ٭    یک چشم زدن غافل از آن شاہ نباشید     شاےد کہ نگاہی کند آگاہ نباشید

            ترجمہ: اےک لحظہ بھی اس شاہ سے غافل نہ رہیں شاےد وہ تمہاری طرف کوئی نظر کرے اور تم آگاہ نہ ہو۔

    ٭    اے ہمارے مولا وآقا !

        ہمارے لئے دعا کریں تاکہ ہم آپ کے لئے باعث زینت بن سکیں نہ باعث شرمساری ۔جیسا کہ آپ کے خاندان کا اعلان ہے کہ:

            'شیعتنا کونوا لنا زینا ولا تکونوا لنا شینا' مگر جب تک ہمیں آپ کی مدد نہ ہوگی ہم آپ کی زینت نہیں بن سکیں گے ۔

    ٭    اگر دنیا کو کسی سورج نے آکر روشن کرنا ہے تو :

            اسکا معنیٰ یہ نہیں ہے کہ اس سورج کے طلوع ہونے تک ہم تاریکی میں بسر کرے۔

 چراغ عشق سے اپنے دلوں کو روشن رکھ

کہ آفتاب بہت جلد آنے والا ہے

    اے ہمارے پدر مہربان ، اے ہمارے شفیق وشقیق امام!

                  اپنی محبت آمیز نگاہ سے ہمیں محروم نہ رکھنا،

                                                            وگرنہ من ہمین خاکم کہ ہستم


موضوعات مرتبط: آداب انتظار

تاريخ : یکشنبه بیست و نهم اردیبهشت 1392 | 1:27 | نویسنده : سيد سجاد اطهر موسوي تبتي | نظر Comment


.: Weblog Themes By RoozGozar.com :.